تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 261
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۱ سورة العنكبوت ا ایمان لاتا ہے جیسا کہ اس آیت کا منشاء ہے ۔ اس وقت وہ تکالیف شاقہ اور محنتیں جو خود نیکیوں کے لئے برداشت کرتا ہے اُٹھ جاتی ہیں اور طبعی طور پر وہ صلاحیت کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے اور وہ تکالیف تکالیف نہیں رہتی ہیں اور نیکیوں کو ایک ذوق اور لذت سے کرتا ہے اور ان دونوں میں یہی فرق ہوتا ہے کہ پہلا نیکی کرتا ہے مگر تکلیف اور تکلف سے اور دوسرا ذوق اور لذت سے ۔ وہ نیکی اس کی غذا ہو جاتی ہے جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا اور وہ تکلف اور تکلیف جو پہلے ہوتی تھی۔ اب ذوق و شوق اور لذت سے بدل جاتی ہے ہے۔ یہ مقام ہوتا ہے صالحین کا جن کے لئے فرمایا لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِي الصَّالِحِينَ ۔ اس مقام پر پہنچ کر کوئی فتنہ اور فساد مومن کے اندر نہیں رہتا ۔ نفس کی شرارتوں سے محفوظ ہو جاتا ہے اور اس کے جذبات پر فتح پا کر مطمئن ہو کر دار الامان میں داخل ہو جاتا ہے۔ - الحکم جلد ۸ نمبر ۲ مورخه ۷ ارجنوری ۱۹۰۴ صفحه ۲ و الحکم جلد ۸ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۱) وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللهِ فَإِذَا أُوذِيَ فِي اللَّهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللهِ وَ لَئِنْ جَاءَ نَصْرُ مِنْ رَبِّكَ لَيَقُولُنَ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ أَوَ لَيْسَ اللهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِي صُدُورِ الْعَلَمِينَ ) اور بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو زبانی تو ایمان کے دعوے کرتے ہیں اور مومن ہونے کی لاف و گزاف مارتے رہتے ہیں ۔ لیکن جب معرض امتحان و ابتلا میں آتے ہیں تو ان کی حقیقت کھل جاتی ہے اس فتنہ وابتلا کے وقت ان کا ایمان اللہ تعالیٰ پر ویسا نہیں رہتا بلکہ شکایت کرنے لگتے ہیں ۔ اسے عذاب الہی قرار دیتے ہیں حقیقت میں وہ لوگ بڑے ہی محروم ہیں جن کو صالحین کا مقام حاصل نہیں ہوتا کیونکہ یہی تو وہ مقام ہے جہاں انسان ایمانی مدارج کے ثمرات کو مشاہدہ کرتا ہے اور اپنی ذات پر ان کا اثر پاتا ہے اور نئی زندگی اسے ملتی ہے لیکن یہ زندگی پہلے ایک موت کو چاہتی ہے اور یہ انعام و برکات امتحان و ابتلا کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں ۔۔۔۔ یقیناً یا درکھو کہ ابتلا اور امتحان ایمان کی شرط ہے اس کے بغیر ایمان ، ایمانِ کامل ہوتا ہی نہیں اور کوئی عظیم الشان نعمت بغیر ابتلا ملتی ہی نہیں ہے۔ دنیا میں بھی عام قاعدہ یہی ہے کہ دنیوی آسائشوں اور نعمتوں کے حاصل کرنے کے لئے قسم قسم کی مشکلات اور رنج و تعب اُٹھانے پڑتے ہیں طرح طرح کے امتحانوں میں