تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 254 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 254

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۴ سورة العنكبوت انعام و برکات امتحان و ابتلاء کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں ۔ یہ یاد رکھو کہ ہمیشہ عظیم الشان نعمت ابتلاء سے آتی ہے اور ابتلاء مومن کے لئے شرط ہے جیسے اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ یعنی کیا لوگ گمان کر بیٹھے ہیں کہ وہ اتنا ہی کہہ دینے پر چھوڑ دیئے جاویں کہ ہم ایمان لائے اور وہ آزمائے نہ جاویں۔ ایمان کے امتحان کے لئے مومن کو ایک خطر ناک آگ میں پڑنا پڑتا ہے مگر اس کا ایمان اس آگ سے اس کو صحیح سلامت نکال لاتا ہے اور وہ آگ اس پر گلزار ہو جاتی ہے۔ مومن ہو کر ابتلاء سے کبھی بے فکر نہیں ہونا چاہیے اور ابتلاء پر زیادہ ثبات قدم دکھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور حقیقت میں جو سچا مومن ہے ابتلاء میں اس کے ایمان کی حلاوت اور لذت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور اس کے عجائبات پر اس کا ایمان بڑھتا ہے اور وہ پہلے سے بہت زیادہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرتا اور دعاؤں سے فتحیاب اجابت چاہتا ہے۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ انسان خواہش تو اعلیٰ مدارج اور مراتب کی کرے اور ان تکالیف سے بچنا چاہے جو ان کے حصول کے لئے ضروری ہیں یقیناً یاد رکھو کہ ابتلاء اور امتحان ایمان کی شرط ہے اس کے بغیر ایمان ایمان کامل ہوتا ہی نہیں اور کوئی عظیم الشان نعمت بغیر ابتلاء ملتی ہی نہیں ۔ دنیا میں بھی عام قاعدہ یہی ہے کہ دنیوی آسائشوں اور نعمتوں کے حاصل کرنے کے لئے قسم قسم کی مشکات اور رنج و تعب اُٹھانے پڑتے ہیں طرح طرح کے امتحانوں میں سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر کامیابی کی شکل نظر آتی ہے اور پھر بھی وہ محض خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے ۔ پھر خدا تعالیٰ جیسی نعمت عظمی جس کی کوئی نظیر ہی نہیں یہ بدوں امتحان کیسے میسر آسکے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۴ ء صفحه ۱) خدا تعالیٰ کی راہ میں جب تک انسان بہت سی مشکلات اور امتحانات میں پورا نہ اترے وہ کامیابی کا سرٹیفکیٹ حاصل نہیں کر سکتا ۔ اسی لئے فرمایا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ محض اتنی ہی بات پر راضی ہو جاوے کہ وہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے اور وہ آزمائے نہ جاویں ۔۔۔۔ کامل ایمان دار بننے کے لئے مجاہدات کی ضرورت ہے اور مختلف ابتلاؤں اور امتحانوں سے ہو کر نکلنا پڑتا ہے۔ گوئیند سنگ لعل شود در مقام صبر آرے شود و لیکن بخونِ جگر شود الحکم جلد ۸ نمبر ۱۷ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۴ صفحه (۳) کیا انسانوں نے گمان کر لیا ہے کہ ہم صرف امنا ہی کہہ کر چھٹکارا پالیں گے اور کیا وہ آزمائش میں نہ