تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 189
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۹ سورة الفرقان ہو کر انسان رو پڑتا ہے کہ کیا عظیم الشان انقلاب ہے جو آپ نے کیا دنیا کی کسی تاریخ اور کسی قوم میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی ۔ یہ نری کہانی نہیں یہ واقعات ہیں جن کی سچائی کا ایک زمانہ کو اعتراف کرنا پڑا ہے۔ الحکم جلد ا انمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه ۵) دوسرا معجزہ تبدیل اخلاق ہے کہ یا تو وہ أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ (الاعراف : ۱۸۰) چار پایوں سے بھی بدتر تھے یا يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا رات نمازوں میں گزارنے والے ہو گئے۔ ( بدر جلد ۶ نمبر ۱۹ مورخه ۹ رمئی ۱۹۰۷ صفحه (۴) قبل اسلام میں آنے کے ان لوگوں کی حالت وہ تھی کہ یا كُلُوْنَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ ( محمد : ۱۲ ) چار پایوں کی طرح کھانے پینے کے سوائے ان کا کوئی شغل ہی نہ تھا۔ یہ تو حالت کفر تھی ۔ اس کے بعد ان کی حالت اسلامی کی یہ تعریف ہے کہ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا اپنے رب کی عبادت میں سجدہ اور قیام کرتے ہوئے رات گزار دیتے ہیں ۔ وہ کھانا پینا سب بھول گئے اور پہلا نقشہ بھی بالکل بدل گیا۔ ( بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۱۱) وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَ لَمْ يَقْتُرُوا وَ كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَامًا اپنے خرچوں میں نہ تو اسراف کرتے ہیں نہ تنگ دلی کی عادت رکھتے ہیں اور میانہ روش چلتے ہیں ۔ - اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۷) وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ وَ إِذَا مَرُوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا لا يَشْهَدُونَ النُّور ۔۔۔۔۔ جھوٹوں کی مجلس میں نہیں بیٹھتے ۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۶۱) وَ إِذَا مَرُوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا ۔۔۔۔۔ اور اگر کوئی لغو بات کسی سے سنیں جو جنگ کا مقدمہ اور لڑائی کی ایک تمہید ہو تو بزرگانہ طور پر طرح دے کر چلے جاتے ہیں اور ادنی ادنی بات پر لڑنا شروع نہیں کر دیتے۔ یعنی جب تک کوئی زیادہ تکلیف نہ پہنچے اس وقت تک ہنگامہ پردازی کو اچھا نہیں سمجھتے اور صلح کاری کے محل شناسی کا یہی اصول ہے کہ ادنی ادنی باتوں کو خیال میں نہ لاویں اور معاف فرماویں اور لغو کا لفظ جو اس آیت میں آیا ہے سو واضح ہو کہ عربی زبان میں لغو اس حرکت کو کہتے ہیں کہ مثلاً ایک شخص شرارت سے ایسی بکواس کرے یا