تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 184
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۴ سورة الفرقان کیا جائے کیونکہ ضد کے ذریعہ سے ضد کا پہچاننا بہت آسان ہو جاتا ہے اور روشنی کا قدر و منزلت اسی پر کھلتا ہے کہ جو تاریکی کے وجود پر علم رکھتا ہو اور پھر فرمایا کہ ہم تاریکی کو روشنی کے ذریعہ سے تھوڑا تھوڑا دور کرتے جاتے ہیں تا اندھیرے میں بیٹھنے والے اس روشنی سے آہستہ آہستہ منتفع ہو جائیں اور جو یک دفعی انتقال میں حیرت و وحشت متصور ہے وہ بھی نہ ہو سو اسی طرح جب دنیا پر روحانی تاریکی طاری ہوتی ہے تو خلقت کو روشنی سے منتفع کرنے کے لئے اور نیز روشنی اور تاریکی میں جو فرق ہے وہ فرق ظاہر کرنے کے لئے خدائے تعالیٰ کی طرف سے آفتاب صداقت نکلتا ہے اور پھر وہ آہستہ آہستہ دنیا پر طلوع کرتا جاتا ہے۔ ( براہین احمد یہ چهار تصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۵۶، ۶۵۷) وَهُوَ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَى رَحْمَتِهِ وَ أَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا لِنُحْيِي بِهِ بَلْدَةً مَيْتًا وَ نُسْقِيَهُ مِمَّا خَلَقْنَا انْعَامًا وَ أَنَاسِي كَثِيرًا ۵۰ خدا وہ ذات کریم و رحیم ہے کہ جو بارش سے پہلے ہواؤں کو چھوڑتا ہے پھر ہم ایک پاک پانی آسمان سے اتارتے ہیں تا اس سے مری ہوئی بستی کو زندہ کریں اور پھر بہت سے آدمیوں اور ان کے چار پایوں کو پانی پلاویں۔ (براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۵۲) ہم نے آسمان سے پاک پانی اتارا یعنی قرآن تاہم اس کے ساتھ مردہ زمین کو زندہ کریں۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۲۲) وَ لَقَدْ صَرَّفْتُهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوا فَأَبَى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُورًا اور ہم پھیر پھیر کر مثالیں بتلاتے ہیں تا لوگ یاد کر لیں کہ نبیوں کے بھیجنے کا یہی اصول ہے۔ ( براہین احمد یہ چہار خصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۵۲) وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ نَذِيرًا فَلَا تُطِعِ الْكَفِرِينَ وَ جَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كبيران اور اگر ہم چاہتے تو ہر یک بستی کے لئے جدا جدا رسول بھیجتے مگر یہ اس لئے کیا گیا کہ تا تجھ سے بھاری کوششیں