تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 182 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 182

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۲ سورة الفرقان بات کا سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے سو اس مصلحت سے خدا نے قرآن شریف کو تئیس برس تک نازل کیا تا اس مدت تک موعود نشان بھی ظاہر ہو جائیں ۔ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۵۷) انبیا علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے مکتب میں تعلیم پانے والے ہوتے ہیں اور تلامیذ الرحمن کہلاتے ہیں ان کی ترقی بھی تدریجی ہوتی ہے اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قرآن شریف میں آیا ہے گذلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْتُهُ تَرْتِيلا ۔ پس میں اس بات کو خوب جانتا ہوں کہ انبیا علیہم السلام کی حالت کیسی ہوتی ہے جس دن نبی مامور ہوتا ہے اس دن اور اس کی نبوت کے آخری دن میں ہزاروں کوس کا فرق ہوجاتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۲ء صفحه ۱۰) وَ إِذَا رَأَوْكَ إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا اَهْذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ رَسُولًا ۔ اور تیرے ساتھ ہنسی سے ہی پیش آئیں گے ۔ اور ٹھٹھا مار کر کہیں گے کیا یہی ہے جس کو خدا نے اصلاح خلق کے لئے مقرر کیا یعنی جن کا مادہ ہی خبث ہے ان سے صلاحیت کی امید مت رکھ۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۱۱ ، ۶۱۲ حاشیہ نمبر (۳) ان لوگوں نے تجھے ایک ہنسی کی جگہ سمجھ رکھا ہے۔ وہ طنزاً کہتے ہیں کہ کیا یہی وہ شخص ہے جس کو خدا نے ہم میں دعوت کے لئے کھڑا کیا۔ ( براہین احمد یہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۸۷) ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۱۲) تجھے لوگ ہنسی کی جگہ بنالیں گے اور کہیں گے کہ کیا یہی شخص خدا نے مبعوث فرمایا ہے۔ أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا کیا تو یہ خیال کرتا ہے کہ اکثر لوگ ان میں سے سنتے اور سمجھتے ہیں۔ نہیں یہ تو چار پایوں کی طرح ہیں ۔ بلکہ ان سے بھی بدتر ۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۵۱) انسان جو اخلاق فاضلہ کو حاصل کر کے نفع رساں ہستی نہیں بنتا ۔ ایسا ہو جاتا ہے کہ وہ ہے ہے کہ وہ کسی بھی کام نہیں آسکتا۔ مردار حیوان سے بھی بدتر ہو جاتا ہے کیونکہ اس کی تو کھال اور ہڈیاں بھی کام آجاتی ہیں اس کی تو کھال