تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 176
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۶ سورة الفرقان کرنے کی کوشش کریں جبکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ایک شے ہونے والی ہے۔ اس لئے ہم کو اس جھگڑے اور مباحثے میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ خدا تعالیٰ نے انسان کے قضا و قدر کو مشروط بھی رکھا ہے جو تو بہ ، خشوع خضوع سے مل سکتی ہیں ۔ جب کسی قسم کی تکلیف اور مصیبت انسان کو پہنچتی ہے تو وہ فطرتاً اور طبعاً اعمال حسنہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اپنے اندر ایک قلق اور کرب محسوس کرتا ہے جو اسے بیدار کرتا اور نیکیوں کی طرف کھینچے لئے جاتا ہے اور گناہ سے ہٹاتا ہے۔ جس طرح پر ہم ادویات کے اثر کو تجربے کے ذریعہ سے پالیتے ہیں اسی طرح پر ایک مضطرب الحال انسان جب خدا تعالیٰ کے آستانہ پر نہایت تدلل اور نیستی کے ساتھ گرتا ہے اور ربی ربی کہہ کر اس کو پکارتا اور دعائیں مانگتا ہے تو وہ رویائے صالحہ یا الہام صحیحہ کے ذریعہ سے ایک بشارت اور تسلی پا لیتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جب صبر اور صدق سے دعا انتہاء کو پہنچے گی تو وہ قبول ہو جاتی ہے۔ دعا، صدقہ اور خیرات سے عذاب کا ٹلنا ایسی ثابت شدہ صداقت ہے جس پر ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کا اتفاق ہے اور کروڑ با صلحاء اور اتقیاء اور اولیاء اللہ کے ذاتی تجربے اس امر پر گواہ ہیں ۔ الحکم جلد ۳ نمبر ۱۳ مورخه ۱۲ را پریل ۱۸۹۹ صفحه (۳) تقدیر یعنی دنیا کے اندر تمام اشیاء کا ایک اندازہ اور قانون کے ساتھ چلنا اور ٹھہرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا کوئی مقدر یعنی اندازہ باندھنے والا ضرور ہے۔ گھڑی کو اگر کسی نے بالا رادہ نہیں بنایا تو وہ کیوں اس قدر ایک باقاعدہ نظام کے ساتھ اپنی حرکت کو قائم رکھ کر ہمارے واسطے فائدہ مند ہوتی ہے ایسا ہی آسمان کی گھڑی کہ اس کی ترتیب اور باقاعدہ اور باضابطہ انتظام یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ بالا رادہ خاص مقصد اور مطلب اور فائدہ کے واسطے بنائی گئی ہے۔ اس طرح انسان مصنوع سے صانع کو اور تقدیر سے مقدر کو پہچان سکتا ہے۔ الحکم جلد ۳ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۸۹۹ ء صفحہ ۶) اہلِ علم خوب جانتے ہیں کہ فضائل جایا کرتی ہے اس لئے انسان پوری تضرع ، خشوع خضوع اور حضور قلب سے اور سچی عاجزی ، فروتنی اور درد دل سے اس سے دعا کرے ۔۔ ہمیں بار بار خیال آتا ہے کہ حضرت عیسی کو بھی کوئی ایک وحشت ناک ہی معاملہ معلوم ہوا ہوگا کہ انہوں نے ساری رات دعا میں صرف کی اور نہایت درجے کے دردانگیز اور بلبلانے والے الفاظ سے خدا کے حضور دعا کرتے رہے۔ ممکن ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی تقدیر معلق کو مبرم ہی خیال کر بیٹھے ہوں اور اسی وجہ سے ان کا یہ سارا اضطراب اور گھبراہٹ بڑھ گئی ہو اور اس درجے کا گداز اور رقت ان میں اپنا آخری دم جان کر ہی پیدا ہوئی ہو کیونکہ اکثر ایک تقدیر جو