تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 145

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الده سورة النور سے دین و کے آخری خلیفہ سے مشابہ ہو کیونکہ کمال ہر ایک چیز کا استدارت کو چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام بسا ئط استدارت کے لفظ سے میری مراد یہ ہے کہ جب ایک دائرہ پورے طور پر کامل ہو جاتا ہے تو جس نقطہ سے شروع ہوا تھا اسی نقطہ سے جاملتا ہے اور جب تک اس نقطہ کو نہ ملے تب تک اُس کو دائرہ کاملہ نہیں کہہ سکتے ۔ پس آخری نقطہ کا پہلے نقطہ سے جاملنا وہی امر ہے جس کو دوسرے لفظوں میں مشابہت تامہ کہا کرتے ہیں ۔ پس جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یشوع بن نون سے مشابہت تھی یہاں تک کہ نام میں بھی تشابہ تھا ایسا ہی حضرت ابو بکر اور مسیح موعود کو بعض واقعات کے رُو سے بشدّ ت بشدت مشابہت ہے اور وہ یہ کہ ابو بکر کو خدا نے سخت فتنہ اور بغاوت اور مفتریوں اور مفسدوں کے عہد میں خلافت کے لئے مقرر کیا تھا ایسا ہی مسیح لئے ایساہی موعود اس وقت ظاہر ہوا کہ جبکہ تمام علامات صغری کا طوفان ظہور میں آچکا تھا اور کچھ کبری میں سے بھی۔ اور دوسری مشابہت یہ ہے کہ جیسا کہ خدا نے حضرت ابوبکر کے وقت میں خوف کے بعد امن پیدا کر دیا اور برخلاف دشمنوں کی خواہشوں کے دین کو جماد یا ایسا ہی مسیح موعود کے وقت میں بھی ہوگا کہ اس طوفان تکذیب اور تکفیر اور تفسیق کے بعد یکد فعہ لوگوں کو محبت اور ارادت کی طرف میلان دیا جائے گا اور جب بہت سے نور نازل ہوں گے اور ان کی آنکھیں کھلیں گی تو وہ معلوم کریں گے کہ ہمارے اعتراض کچھ چیز نہ تھے اور ہم نے اپنے اعتراضوں میں بجز اس کے اور کچھ نہ دکھلا یا جو اپنے سطحی خیال اور موٹی عقل اور حسد اور تعصب کے زہر کو لوگوں پر ظاہر کر دیا۔ اور پھر اس کے بعد ابو بکر اور مسیح موعود میں یہ مشابہت ظاہر کر دی جائے گی کہ اس دین کو جس کی مخالف بیخ کنی کرنا چاہتے ہیں زمین پر خوب جمادیا جائے گا اور ایسا مستحکم کیا جائے گا کہ پھر قیامت تک اس میں تزلزل نہیں ہوگا۔ اور پھر تیسری مشابہت یہ ہوگی کہ جو شرک کی ملونی مسلمانوں کے عقیدوں میں مل گئی تھی وہ بکلی اُن کے دلوں میں سے نکال دی جائے گی۔ اس سے مراد یہ ہے کہ شرک کا ایک بڑا حصہ جو مسلمانوں کے عقائد میں داخل ہو گیا تھا یہاں تک کہ دجال کو بھی خدا کی منتیں دی گئی تھیں اور حضرت مسیح کوایک حصہ مخلوق کا خلق سمجھا گیا تھایہ ہر ایک قسم کا شرک ڈور کیا جائے گا جیسا کہ آیت يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بي شَيْئًا سے مستنبط ہوتا ہے۔ ایسا ہی اس پیشگوئی سے جو مسیح موعود اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ میں مشترک ہے یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ جس طرح شیعہ لوگ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تکفیر کرتے ہیں اور ان کے مرتبہ اور بزرگی سے منکر ہیں ایسا ہی مسیح موعود کی تکفیر بھی کی جائے گی اور ان کے مخالف ان کے مرتبہ ولایت سے انکار کریں گے کیونکہ اس پیشگوئی کے اخیر میں یہ آیت ہے وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ ۔ اور اس آیت کے معنے جیسا کہ روافض کی عملی حالت سے کھلے ہیں یہی ہیں کہ بعض گمراہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مقام بلند سے منکر ہو جائیں گے اور ان کی تکفیر کریں گے پس اس آیت سے سمجھا جاتا ہے کہ مسیح موعود کی بھی تکفیر ہوگی کیونکہ وہ خلافت کے اس آخری نقطہ پر ہے جو خلافت کے پہلے نقطہ سے ملا ہوا ہے۔ یہ بات بہت ضروری اور یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ہر ایک دائرہ کا عام قاعدہ یہی ہے کہ اُس کا آخری نقطہ پہلے نقطہ سے اتصال رکھتا ہے لہذا اس عام قاعدہ کے موافق خلافت محمد یہ کے دائرہ میں بھی ایسا ہی ہونا ضروری ہے یعنے یہ لازمی امر ہے کہ آخری نقطہ اُس دائرہ کا جس سے مراد مسیح موعود ہے جو سلسلۂ خلافت محمد یہ کا خاتم ہے وہ اس دائرہ کے پہلے نقطہ سے جو خلافت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا نقطہ ہے جو سلسلہ خلافت محمد یہ کے دائرہ کا پہلا نقطہ جو ابو بکر ہے وہ اس دائرہ کے انتہائی نقطہ سے جو مسیح موعود ہے اتصال تام رکھتا ہے جیسا کہ مشاہدہ اس بات پر گواہ ہے کہ آخر نقطہ ہر ایک دائرہ کا اس کے پہلے نقطہ سے جاملتا ہے۔ اب جبکہ اوّل اور آخر کے دونوں نقطوں کا اتصال ماننا پڑا تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ جو قرآنی پیشگوئیاں خلافت کے پہلے نقطہ کے حق میں ہیں یعنی حضرت ابوبکر کے حق میں وہی خلافت کے آخری نقطہ کے حق میں بھی ہیں یعنی مسیح موعود کے حق میں اور یہی ثابت کرنا تھا۔ منہ