تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 131
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۱ سورة النور کے مذہب کو ایسا ہی حقیر اور ذلیل سمجھتی ہے جیسا کہ مجوسی یہودیوں پر غالب آ کر حضرت مسیح کے زمانہ میں یہود کو حقیر اور ذلیل سمجھتے تھے اور یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اندرونی حالت اسلام کے علماء اور اسلام کے دنیا داروں یہودیوں کے حالات سے کچھ کم نہیں ہے بلکہ خیر سے وہ چند معلوم ہوتی ہے۔ کی (شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۶۳ تا ۳۶۴) إِنَّ دِينَنَا هَذَا الَّذِي اسْمُهُ الْإِسْلَامُ خدا نے نہیں چاہا کہ ہمارے دین اسلام کو مہمل مَا أَرَادَ اللهُ أَنْ يَتْرُكَهُ سُدًى وَمَا أَرَادَ أَنْ چھوڑے اور دشمنوں کے ہاتھوں سے اس کو باطل اور يُبْطِلَهُ وَيُغْرِبَهُ مِنْ أَيْدِي الْأَعْدَاءِ ، بَلْ خراب کراوے بلکہ اس نے فرمایا اور وہ بات کہنے میں قَالَ وَهُوَ أَصْدَقُ الصَّادِقِينَ وَعَدَ الله سب سے بڑھ کر سچا ہے۔ کہ اللہ نے تم میں سے ان پکے الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ مسلمانوں سے وعدہ کیا ہے جو اچھے اعمال بجالاویں لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ گے کہ ضرور ان کو اسی طرز پر زمین میں خلیفہ بناوے گا مِنْ قَبْلِهِمْ ۔۔۔ فَهَذِهِ كُلُّهَا مَوَاعِيْدُ صَادِقَةٌ کہ جس طرح پہلوں کو بنایا ہے ۔۔۔ پس اسلام کی تائید لِتَأْبِيْدِ الْإِسْلَامِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وَغَلَبَةِ کے لئے یہ سب کچھ وعدے ہیں فتنوں کے ظہور اور الْمَعَاصِي وَالْأَثَامِ ، وَأَيُّ فِتَنِ أَكْبَرُ مِنْ هَذِہِ گناہوں کے غلبہ کے وقت اور جو فتنے کہ اس وقت الْفِتَنِ الَّتِي ظَهَرَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ وَإِنَّ روئے زمین پر ظاہر ہو رہے ہیں ان سے کون سا بڑا فتنہ النَّصَارَى قَدْ دَخَلُوا عَلَى النَّاسِ مِنْ بَابِ ہے اور نصاری لطیف دروازہ سے لوگوں پر داخل ہوئے لَّطِيفِ، وَسَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَقُلُوبَهُمْ ہیں اور اپنے باریک در بار یک فریبوں سے لوگوں کی وَاذَا نَهُمْ بِالْمَكَائِدِ الَّتِي هِيَ دَقِيقَةُ الْمَاخِذِ آنکھوں اور کانوں اور دلوں کو سحر زدہ کر دیا ہے اور بہت وَأَضَلُّوا خَلْقًا كَثِيرًا وَجَاءُ وَا بِسِحْرِ مبین سی مخلوق کو گمراہ کر دیا ہے او کھل سحر کا ردیا ہے او کھلے سحر کا کام کیا ہے۔ لله (حمامة البشرى، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۲۰۷، ۲۰۸) ( ترجمه از مرتب ) میں روحانیت کی رو سے اسلام میں خاتم الخلفاء ہوں جیسا کہ مسیح ابن مریم اسرائیلی سلسلہ کے لئے خاتم الخلفاء تھا ۔ موسیٰ کے سلسلہ میں ابنِ مریم مسیح موعود تھا اور محمدی مسلسلہ میں میں مسیح موعود ہوں ۔ - کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۷) مسیح موعود کی پیشگوئی صرف حدیثوں میں نہیں ہے بلکہ قرآن شریف نے نہایت لطیف اشارات میں