تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 119
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۹ سورة النور رود کوئی تخصیص کا لفظ نہ ہوتا تو عبارت رکیک اور مبہم اور دور از فصاحت ہوتی اور منکم کے لفظ سے یہ جتانا بھی منظور ہے کہ پہلے بھی وہی لوگ خلیفے مقرر کئے گئے تھے کہ جو ایماندار اور نیکو کار تھے اور تم میں سے بھی , ایماندار اور نیکو کار ہی مقرر کئے جائیں گے ۔ اب اگر آنکھیں دیکھنے کی ہوں تو عام معنی کی رُو سے منگھ کے لفظ کا زائد ہونا کہاں لازم آتا ہے اور تکرار کلام کیوں کر ہے جبکہ ایمان اور عمل صالح اسی اُمت سے شروع نہیں ہوا پہلے بھی مومن اور نکو کارگزرے ہیں تو اس صورت میں تمیز کامل بجز مِنْكُمْ کے لفظ کے کیوں کر ہو سکتی تھی۔ اگر صرف اس قدر ہوتا کہ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الطلحت تو کچھ معلوم نہ ہو سکتا تھا کہ یہ کن ایمانداروں کا ذکر ہے آیا اس اُمت کے ایماندار یا گذشتہ امتوں کے اور اگر صرف مِنْكُمْ ہوتا اور الَّذِینَ امَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحت نہ ہوتا تو یہ سمجھا جاتا کہ فاسق اور بد کارلوگ بھی خدا تعالیٰ کے خلیفے ہو سکتے ہیں حالانکہ فاسقوں کی بادشاہت اور حکومت بطور ابتلا کے ہے نہ بطور اصطفا کے اور خدا تعالیٰ کے حقانی خلیفے خواہ وہ روحانی خلیفے ہوں یا ظاہری وہی لوگ ہیں جو متقی اور ایماندار اور نیکو کار ہیں ۔ اور یہ وہم کہ عام معنوں کی رُو سے ان آیات کی اخیر کی آیت یعنی وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ بالکل بے معنی ٹھہر جاتی ہے ایسا بیہودہ خیال ہے جو اس پر ہنسی آتی ہے کیونکہ آیت کے صاف اور سیدھے یہ معنی ہیں کہ اللہ جل شانہ خلیفوں کے پیدا ہونے کی خوشخبری دے کر پھر باغیوں اور نافرمانوں کو دھمکی دیتا ہے کہ بعد خلیفوں کے پیدا ہونے کے جب وہ وقتاً فوقتاً پیدا ہوں اگر کوئی بغاوت اختیار کرے اور ان کی اطاعت اور بیعت سے منہ پھیرے تو وہ فاسق ہے۔ اب نا درستی معنوں کی کہاں ہے اور واضح ہو کہ اس آیت کریمہ سے وہ حدیث مطابق ہے جو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ مَنْ لَّمْ يَعْرِفُ إِمَامَ زَمَانِهِ فَقَدْ مَاتَ مِيتَةَ الْجَاهِلِيَّةِ - جس شخص نے اپنے زمانہ کے امام کو شناخت نہ کیا وہ جاہلیت کی موت پر مر گیا یعنی جیسے جیسے ہر یک زمانہ میں امام پیدا ہوں گے اور جو لوگ اُن کو شناخت نہیں کریں گے تو ان کی موت کفار کی موت کے مشابہ ہو گی اور معترض صاحب کا اس آیت کو پیش کرنا کہ قَالَ اللهُ إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ فَمَنْ يَكْفُرُ بَعْدُ مِنْكُمْ فَإِنِّي أَعَذِّبُهُ عَذَابًا لَّا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَلَمِينَ ( المائدة : ١١٦ ) اور اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ منکم کا لفظ اس جگہ خصوصیت کے ساتھ حاضرین کے حق میں آیا ہے ایک بے فائدہ بات ہے کیونکہ ہم لکھ چکے ہیں کہ قرآن کریم کا عام محاورہ جس سے تمام قرآن بھرا پڑا ہے یہی ہے کہ خطاب عام ہوتا ہے اور احکام خطا بیہ تمام امت کے لئے ہوتے ہیں نہ صرف صحابہ کے لئے ۔ ہاں جس جگہ کوئی صریح اور صاف