تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 116

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١١۶ سورة النور تناسخ کے اُن کی روحیں پھر آجانا طریق معقول کے برخلاف ہے تو حضرت مسیح کی نسبت کیوں کر دوبارہ دنیا میں آنا تجویز کیا جاتا ہے جن کی وفات پر آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمُ (المائدة : ۱۱۸) بلند آواز سے شہادت دے رہی ہے کیا یہودیوں کی روحوں کا دوبارہ دنیا میں آنا خدا تعالیٰ کی قدرت سے بعید اور نیز طریق معقول کے برخلاف لیکن حضرت عیسیٰ کا بجسده العنصری پھر زمین پر آجانا بہت معقول ہے۔ پھر اگر نصوص مدینہ صریحہ قرآنیہ کو باعث استبعاد ظاہری معنوں کے مؤوّل کر کے طریق صرف عن الظاہر اختیار کیا جاتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ نصوص احادیثیہ کا صرف عن الظاہر جائز نہیں کیا احادیث کی قرآن کریم سے کوئی اعلیٰ شان ہے کہ تا ہمیشہ احادیث کے بیان کو گو کیسا ہی بعید از عقل ہو ظاہر الفاظ پر قبول کیا جائے اور قرآن میں تاویلات بھی کی جائیں۔ پھر ہم اصل کلام کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ بعض صاحب آیت وعد اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ کی عمومیت سے انکار کر کے کہتے ہیں کہ مِنْكُم سے صحابہ ہی مراد ہیں اور خلافت راشدہ حقہ انہیں کے زمانہ تک ختم ہوگئی اور پھر قیامت تک اسلام میں اس خلافت کا نام ونشان نہیں ہوگا ۔ گویا ایک خواب و خیال کی طرح اس خلافت کا صرف تین برس ہی دور تھا اور پھر ہمیشہ کے لئے اسلام ایک لازوال نحوست میں پڑ گیا مگر میں پوچھتا ہوں کہ کیا کسی نیک دل انسان کی ایسی رائے ہو سکتی ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت تو یہ اعتقادر کھے کہ بلا شبہ ان کی شریعت کی برکت اور خلافت راشدہ کا زمانہ برابر چودہ سو برس تک رہا لیکن وہ نبی جو افضل الرسل اور خیر الانبیاء کہلاتا ہے اور جس کی شریعت کا دامن قیامت تک ممتد ہے اس کی برکات گویا اس کے زمانہ تک ہی محدود رہیں اور خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ کچھ بہت مدت تک اس کی برکات کے نمونے اس کے روحانی خلیفوں کے ذریعہ سے ظاہر ہوں ایسی باتوں کوشن کر تو ہمارا بدن کانپ جاتا ہے مگر افسوس کہ وہ لوگ بھی مسلمان ہی کہلاتے ہیں کہ جو سراسر چالا کی اور بیبا کی کی راہ سے ایسے بے ادبانہ الفاظ منہ پر لے آتے ہیں کہ گویا اسلام کی برکات آگے نہیں بلکہ مدت ہوئی کہ ان کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ ماسوٹی اس کے منکم کے لفظ سے یہ استدلال پیدا کرنا کہ چونکہ خطاب صحابہ سے ہے اس لئے یہ خلافت صحابہ تک ہی محدود ہے عجیب عقلمندی ہے اگر اسی طرح قرآن کی تفسیر ہو تو پھر یہودیوں سے بھی آگے بڑھ کر قدم رکھنا ہے۔ اب واضح ہو کہ مِنكُم کا لفظ قرآن کریم میں قریباً بیائی جگہ آیا ہے اور بجز دو یا تین جگہ کے جہاں کوئی خاص قرینہ قائم کیا گیا ہے باقی تمام مواضع میں مِنكُمْ کے خطاب سے وہ تمام مسلمان مراد ہیں جو