تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 78
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۸ سورة المؤمنون فطرت میں تو ہمات کے داخل ہو جانے سے جو بعض نقص پیدا ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے وجہ سے كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ کہا گیا ہے۔ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۳ مورخہ ۷ ارستمبر ۱۹۰۷ ء صفحه ۹) أَمْ يَقُولُونَ بِهِ جِنَّةٌ بَلْ جَاءَهُم بِالْحَقِّ وَ أَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كَرِهُونَ وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمُوتُ وَالْأَرْضُ وَ مَنْ فِيهِنَّ بَلْ آتَيْنَهُمُ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُعْرِضُونَ ) کیا یہ کہتے ہیں کہ اس کو جنون ہے؟ نہیں۔ بلکہ بات تو یہ ہے کہ خدا نے ان کی طرف حق بھیجا اور وہ حق کے قبول کرنے سے کراہت کر رہے ہیں اور اگر خدا ان کی خواہشوں کی پیروی کرتا تو زمین اور آسمان اور جو کچھ ان میں ہے سب بگڑ جاتا بلکہ ہم ان کے لئے وہ ہدایت لائے ہیں جس کے وہ محتاج ہیں۔ سوجس ہدایت کے وہ محتاج ہیں اسی سے کنارہ کش ہیں ۔ براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۴۵، ۲۴۶ حاشیہ نمبر ۱۱) مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ وَلَدٍ وَ مَا كَانَ مَعَهُ مِنْ الهِ إِذَا لَذَهَبَ كُلُّ الهِم بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ سُبْحَنَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ ۔ اگر زمین آسمان میں بجز اس ایک ذات جامع صفات کاملہ کے کوئی اور بھی خدا ہوتا تو وہ دونوں بگڑ جاتے۔ کیونکہ ضرور تھا کہ کبھی وہ جماعت خدائیوں کی ایک دوسرے کے خلاف کام کرتے ۔ پس اسی پھوٹ اور اختلاف سے عالم میں فساد راہ پاتا اور نیز الگ الگ خالق ہوتے تو ہر واحد ان میں سے اپنی ہی مخلوق کی بھلائی چاہتا اور ان کے آرام کے لئے دوسروں کا برباد کر نا روا رکھتا۔ پس یہ بھی موجب فساد عالم ٹھہرتا۔ (براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۱۹،۵۱۸ حاشیه در حاشیہ نمبر (۳) وَ إِنَّا عَلَى أَنْ تُرِيَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقَدِرُونَ ) اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو کچھ ہم ان کی نسبت وعدہ کرتے ہیں وہ تجھے دکھلا دیں۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۴ حاشیہ نمبر ۱۱)