تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 71
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ال سورة المؤمنون وَتَرْكُ الْفَرْضِ مَعْصِيَّةٌ وَالْإِعْرَاضُ عَنْ ترک کرنا اور ایسے گمراہ لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا قَوْمٍ مُنْتَظِرِينَ ضَالِيْنَ جَرِيمَةٌ كَبِيرَةٌ تَعَالیٰ جو کسی بادی کے منتظر ہوں بہت بڑا گناہ ہے، ایسے شَأْنُ الْأَنْبِيَاءِ الْمَعْصُومِينَ مِنْ هَذِهِ سنگین جرائم سے انبیا ء معصومین کی شان بالاتر ہوتی الْجَرَائِمِ الَّتِي هِيَ أَشْنَعُ الثَّمَائِمِ ۔۔۔۔۔ ہے۔۔۔۔ لَا شَكَ وَلَا شُبْهَةً وَلَا رَيْبَ أَنَّ عِيسَی اس میں کچھ شک و شبہ نہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے لَمَّا مَنَ اللهُ عَلَيْهِ بِتَخْلِيْصِهِ مِنْ بَلِيَّةِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب کی مصیبت سے الصَّلِيبِ هَاجَرَ مَعَ أُمِّهِ وَبَعْضِ صَحَابَتِهِ إِلى نجات بخشی تو آپ نے اپنی والدہ نیز اپنے چند كَشْمِيرَ وَرَبُوَتِهِ الَّتِي كَانَتْ ذَاتَ قَرَارٍ ساتھیوں سمیت کشمیر کے بلند و بالا علاقہ کی طرف وَمَعِينٍ وَمَجْمَعِ الْأَعَاجِيْبِ وَإِلَيْهِ أَشَارَ رَبُّنَا - ہجرت کی جو چشموں سے شاداب اور مجمع عجائبات تھا نَاصِرُ النَّبِيِّينَ وَمُعِيْنُ الْمُسْتَضْعَفِينَ فِي اور ہمارے رب نے جو انبیاء کا مددگار اور کمزوروں کا قَوْلِهِ وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَامَّةَ ايَةً وَ اوَيُنَهُمَا دستگیر ہے اس کی طرف اپنے قول میں وَ جَعَلْنَا ابْنَ إلى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِينٍ وَلَا شَكَ أَنَّ مَرْيَمَ وَاُمَّةَ ايَةً وَ اوَيُنَهُمَا إِلى إِلَى رَبِّوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ الْإِبْوَاء لَا يَكُونُ إِلَّا بَعْدَ مُصِيبَةٍ وَتَعْبِ وَ مَعِينٍ میں اشارہ فرمایا ہے۔ اس میں کوئی شک وَكُرْبَةٍ وَلَا يُسْتَعْمَلُ هَذَا اللَّفْظُ إِلَّا بِهَذَا نہیں کہ ایواء کا لفظ مصیبت اور پریشان کن حالت الْمَعْنَى وَهُذَا هُوَ الْحَقُّ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ سے نجات کے بعد ہی بولا جاتا ہے ۔ اور یہ لفظ وَشُبْهَةٍ وَلَا يَتَحَقَّقُ هَذِهِ الْحَالَةُ الْمُقَلْقِلَةُ فِي عربی زبان میں ہمیشہ انہیں معنوں میں استعمال ہوتا سوانح الْمَسِيحِ إِلَّا عِنْدَ وَاقِعَةِ الصَّلِیْبِ ہے۔ اور پریشان اور بے چین کرنے والی حالت وَلَيْسَتْ رَبِّوَةً فِي الْإِرْتِفَاعِ فِي جَمِيعِ الدُّنْيَا حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی میں صرف صلیب مِنَ الْبَعِيدِ وَالْقَرِيبِ كَمِثْلِ ارْتِفَاعِ کے واقعہ کے وقت ہی پیش آئی تھی اور ہر ذی علم جانتا جِبَالِ كَشْمِيْرَ وَكَمِثْلِ مَا يَتَعَلَّقُ بِشُعُبِهَا ہے کہ تمام دنیا میں کشمیر کے بلند و بالا اور سر سبز و شاداب عِنْدَ الْعَلِيمِ الْأَرِيبِ وَلَا يَسَعُ لَكَ تَخْطِئَةُ پہاڑوں جیسا اور کوئی پہاڑ نہیں۔ اور اہل تحقیق کے هذَا الكَلَامِ مِنْ غَيْرِ التَّصْوِيْبِ لئے اس کلام کی تصدیق کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ وَأَمَّا لَفْظُ الْقَرَارِ" فِي الْآيَةِ فَيَدُلُّ عَلَى آیت مذکورہ میں قرار کا لفظ مسیح علیہ السلام کے