تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 66

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہوا کرتے ہیں ۔ (شہد کے تذکرے پر آپ نے فرمایا کہ ) سورة النحل الحکم جلدے نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۷ ) دوسری تمام شیرینیوں کو تو اطباء نے عفونت پیدا کرنے والی لکھا ہے مگر یہ ان میں سے نہیں ہے۔ آنب وغیرہ اور دیگر پھل اس میں رکھ کر تجربے کئے گئے ہیں کہ وہ بالکل خراب نہیں ہوتے سالہا سال ویسے ہی پڑے رہتے ہیں ۔ (فرمایا کہ ) ایک دفعہ میں نے انڈے پر تجربہ کیا تو تعجب ہوا کہ اس کی زردی تو ویسی ہی رہی مگر سفیدی انجماد پا کر مثل پتھر کے سخت ہو گئی جیسے پتھر نہیں ٹوٹتا ویسے ہی وہ بھی نہیں ٹوٹتی تھی ۔ خدا تعالیٰ نے اسے شِفَاء لِلنَّاسِ کہا ہے واقعی میں عجیب اور مفید شے ہے تو کہا گیا ہے۔ یہی تعریف قرآن شریف کی فرمائی ہے۔ ریاضت کش اور مجاہدہ کرنے والے لوگ اکثر اسے استعمال کرتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہڈیوں ۔۔۔ وغیرہ کو محفوظ رکھتا ہے۔ اس میں ال جو ناس کے اوپر لگایا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو اس کے اپنے (یعنی خدا تعالیٰ کے ) ناس (بندے ) ہیں اور اس کے قرب کے لئے مجاہدے اور ریاضتیں کرتے ہیں ان کے لئے شفا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ تو ہمیشہ خواص کو پسند کرتا ہے عوام سے اسے کیا کام ۔ ذیا بیطس کی مرض کا ذکر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ) البدر جلد ۳ نمبر ۷ مورخه ۱۶ فروری ۱۹۰۴ صفحه (۳) اس سے مجھے سخت تکلیف تھی ۔ ڈاکٹروں نے اس میں شیرینی کو سخت مصر بتلایا ہے۔ آج میں اس پر غور کر رہا تھا تو خیال آیا کہ بازار میں جو شکر وغیرہ ہوتی ہے اسے تو اکثر فاسق فاجر لوگ بناتے ہیں اگر اس سے ضرر ہوتا ہو تو تعجب کی بات نہیں مگر عسل ( شہد ) تو خدا کی وحی سے طیار ہوا ہے اس لئے اس کی خاصیت دوسری شیرینیوں کی سی ہرگز نہ ہوگی اگر یہ ان کی طرح ہوتا تو پھر سب شیرینی کی نسبت شِفَاء لِلنَّاسِ فرمایا جاتا مگر اس میں صرف عسل ہی کو خاص کیا ہے۔ پس یہ خصوصیت اس کے نفع پر دلیل ہے اور چونکہ اس کی طیاری بذریعہ وحی کے ہے اس لئے لکھی جو پھولوں سے رس چوستی ہوگی تو ضرور مفید اجزاء کو ہی لیتی ہوگی ۔ اس خیال سے میں نے تھوڑے سے شہر میں کیوڑا ملا کر اسے پیا تو تھوڑی دیر کے بعد مجھے بہت فائدہ حاصل ہوا حتی کہ