تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 53
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ سورة النحل بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة النحل بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ آتَى اَمْرُ اللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَنَهُ وَتَعَلیٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ ) آتَى امْرُ اللهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ ۔۔۔۔ خدا کا امر آیا ہے سو تم جلدی مت کرو۔ ۲ ( براہین احمد یہ چهار تخصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۲۰ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا لَكُمْ فِيهَا دِفْ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ ) ( عیسائیوں کے مناظر ڈ پٹی عبداللہ آتھم کو مخاطب کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں ) آپ کے رحم بلا مبادلہ کا بجز اس کے میں کوئی اور خلاصہ نہیں سمجھتا کہ عدل سزا کو چاہتا ہے اور رحم عفو اور درگزر کو چاہتا ہے لیکن جب کہ رحم اور عدل اپنے مظہروں میں مساوی اور ایک درجہ کے نہ ٹھہرے اور یہ ثابت ہو گیا کہ خدا تعالی کے رحم نے کسی کی راستبازی کی ضرورت نہیں سمجھی اور ہر ایک نیکوکار اور بدکار پر اس کی رحمانیت قدیم سے اثر ڈالتی چلی آئی ہے تو پھر یہ کیوں کر ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ بدکاروں کو ایک ذرہ رحم کا مزہ چکھانا نہیں چاہتا۔ کیا قانون قدرت جو ہماری نظر کے سامنے پکار پکار کر شہادت نہیں دے رہا کہ اس رحم کے لئے گناہ اور غفلت اور تقصیر داری بطور روک کے نہیں ہو سکتی اور اگر ہو تو ایک دم بھی انسان کی زندگی مشکل ہے