تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 414
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۴ سورة الحج ہوگا کیونکہ اس کے پاس زبردست دلائل ہوتے ہیں لیکن بناوٹی خدا کا ماننے والا بڑی مصیبت میں ہوتا ہے وہ بجائے دلائل بیان کرنے کے ہر ایک بیہودہ بات کو راز میں داخل کرتا ہے تا ہنسی نہ ہو اور ثابت شدہ غلطیوں کو چھپانا چاہتا ہے۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۷۵) جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں کہ یہ مشکل ہے کہ مصنوعی خدا پر موت آوے انہوں نے اللہ تعالیٰ کو مانا نہیں وہ مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِہ کے پورے مصداق ہیں ۔ (الحکم جلد ۸ نمبر ۱۶ مورخہ ۷ ارمی ۱۹۰۴ صفحه ۳) وَ جَاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبْكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ أَبِيكُمُ ابْراهِيمَ هُوَ سَمِكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَ فِي هَذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ فَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَاتُوا الزَّکٰوةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلَكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ اصل بات یہی ہے کہ حقیقی معاون و ناصر وہی پاک ذات ہے جس کی شان ہے نِعْمَ الْمَوْلَی وَ نِعْمَ الْوَكِيلُ وَ نِعْمَ النَّصِيرُ - دنیا اور دنیا کی مددیں ان لوگوں کے سامنے کا لمیت ہوتی ہیں اور مردہ کیڑے کے برابر بھی حقیقت نہیں رکھتیں۔ ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ نمبر ۱ صفحه ۸ جنوری ۱۹۰۴ء) ایک مولوی صاحب آئے اور انہوں نے سوال کیا کہ خدا نے ہمارا نام مسلمان رکھا ہے۔ آپ نے اپنے فرقہ کا نام احمدی کیوں رکھا ہے؟ یہ بات هُوَ سَمَّكُمُ الْمُسْلِمِینَ کے برخلاف ہے۔ اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا :۔ ) اسلام بہت پاک نام ہے اور قرآن شریف میں یہی نام آیا ہے لیکن جیسا کہ حدیث شریف میں آچکا ہے اسلام کے ۷۳ فرقے ہو گئے ہیں اور ہر ایک فرقہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے انہی میں ایک رافضیوں کا ایسا فرقہ ہے جو سوائے دو تین آدمیوں کے تمام صحابہ کو سب وشتم کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج مطہرات کو گالیاں دیتے ہیں اولیاء اللہ کو برا کہتے ہیں پھر بھی مسلمان کہلاتے ہیں۔ خارجی حضرت علی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو برا کہتے ہیں اور پھر بھی مسلمان نام رکھتے ہیں۔ بلا د شام میں ایک فرقہ یزید یہ ہے جو امام حسین پر تبر ابازی کرتے ہیں اور مسلمان بنے پھرتے ہیں ۔ اسی مصیبت کو دیکھ کر سلف صالحین نے رض