تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 408 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 408

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ٧٠ سورة الحج ایک تاریک رات تھی جس کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیج اعوج رکھا ہے خدا تعالیٰ کا یہ ایک دن ہے جیسا کہ فرماتا ہے اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ۔ اس ہزار سال میں دنیا پر ایک خطرناک ظلمت کی چادر چھائی ہوئی تھی جس میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو ایک نا پاک کیچڑ میں ڈالنے کے لئے پوری تدبیروں اور مکاریوں اور حیلہ جوئیوں سے کام لیا گیا ہے اور خود ان لوگوں میں ہر قسم کے شرک اور بدعات ہو گئے جو مسلمان کہلاتے تھے۔ مگر اس گروہ کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لَيْسُوا مِنِّى وَلَسْتُ مِنْهُمْ یعنی نہ وہ مجھ سے ہیں اور نہ میں ان سے ہوں ۔ غرض جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا یہ ہزار سالہ رات تھی جو گزرگئی ۔ اب خدا تعالیٰ نے تقاضا فرمایا کہ دنیا کو روشنی سے حصہ دے اس شخص کو جو حصہ لے سکے کیونکہ ہر ایک اس قابل نہیں کہ اس سے حصہ لے۔ چنانچہ اس نے مجھے اس صدی پر مامور کر کے بھیجا ہے تا کہ میں اسلام کو زندہ کروں ۔ (الحکم جلد ۶ نمبر ۹ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۴) قرآن سے یہ تصریح معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمانہ یہی ہے جس کا نام خدا نے رکھا ہے ستۃ ایام چھٹے دن کے آخری حصہ میں آدم کا پیدا ہونا ضروری تھا۔ براہین میں اسی کی طرف اشارہ ہے اردت ان استخلف فخلقت آدم پھر فرمایا إِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ آج سے پہلے جو ہزار برس گزرا ہے وہ باعتبار بد اخلاقیوں اور بد اعمالیوں کے تاریکی کا زمانہ تھا کیونکہ وہ فسق و فجور کا زمانہ تھا اسی لئے آنحضرت نے خیر القرون قرنی کہہ کر تین سو برس کو مستثنیٰ کر دیا باقی ایک ہزار ہی رہ جاتا ہے ورنہ اس کے بغیر احادیث کی مطابقت ہو ہی نہیں سکتی اور اس طرح پر پہلی کتابوں سے بھی مطابقت ہو جاتی اور وہ بات بھی پوری ہوتی ہے کہ ہزار سال تک شیطان کھلا رہے گا۔ یہ بات بھی کیسی پوری ہوتی ہے اور انگریز بھی اسی واسطے شور مچاتے ہیں کہ یہی زمانہ ہے جس میں ہمارے مسیح کو دوبارہ آنا چاہیے ۔ یہ مسئلہ ایسا مطابق آیا ہے کہ کوئی مذہب اس سے انکار کر ہی نہیں سکتا۔ یہ ایک علمی نشان ہے جس سے کوئی گریز نہیں ہو سکتا۔ الحکم جلدی نمبر ۱۵ مورخہ ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۶) دانیال کی کتاب میں صد ہا سال کو ہفتہ کہا گیا ہے اور دنیا کی عمر بھی ایک ہفتہ بتلائی گئی ہے اس جگہ ہفتہ سے مراد سات ہزار سال ہیں ۔ ایک دن ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے إِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ تیرے رب کے نزدیک ایک دن تمہارے ہزار سال کے برابر ہے۔ ( بدر جلد ۶ نمبر ۸ مورخه ۲۱ فروری ۱۹۰۷ صفحه (۴)