تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 401 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 401

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ۱۰ سورة الحج فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے اس کو حکم دیا تا وہ مدینہ بھاگ جائے سوآ نحضرت اپنے مِنْ وَطَنِهِ بِإِخْرَاجِ قَوْمِهِ وَمَعَ ذَلِكَ مَا وطن سے کفار کے نکالنے سے ہجرت کر گئے اور ابھی کفار نے كَانَ الْكُفَّارُ مُنْتَهِينَ، بَلْ لَّمْ يَزَلِ الْفِتَنُ ایذا رسانی میں بس نہیں کی تھی بلکہ وہ فتنے بھڑکاتے اور مِنْهُمْ تَسْتَعِرُ، وَمَحْجَةُ الدَّعْوَةِ تُعِرُ، حَتَّى دعوت کے کاموں میں مشکلات ڈالتے یہاں تک کہ جَلَبُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر معہ اپنے سواروں اور پیادوں وَسَلَّمَ خَيْلَهُمْ وَرَجِلَهُمْ ، وَضَرَبُوا کے چڑھائی کی اور بدر کے میدان میں جو مدینہ سے قریب خِيَامَهُمْ فِي مَيَادِيْنِ بَدْرٍ بِفَوْجٍ كَثِيرٍ ہے اپنی فوج کے خیمے کھڑے کر دیئے او ردیئے اور چاہا کہ دین کی قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ، وَأَرَادُوا اسْتِيْصَالَ بیخ کنی کر دیں تب خدا کا غضب ان پر بھڑ کا اور اس نے الدِّينِ فَاشْتَعَلَ غَضَبُ اللهِ عَلَيْهِمْ ان کے بڑے ظلم اور سختی کے ساتھ حد سے تجاوز کرنا مشاہدہ وَرَأَى قُبْحَ جَفَائِهِمْ وَشِدَّةَ اعْتِدَائِهِمْ، کیا سو اس نے اپنی وحی اپنے رسول پر اتاری اور کہا کہ فَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى رَسُولِهِ وَقَالَ أَذِنَ مسلمانوں کو خدا نے دیکھا جو ناحق ان کے قتل کے لئے لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللهَ ارادہ کیا گیا ہے اور وہ مظلوم ہیں اس لئے انہیں مقابلہ کی عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ، فَأَمَرَ اللهُ رَسُولَهُ اجازت ہے اور خدا قادر ہے جو ان کی مدد کرے سو خدا الْمَظْلُومَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ لِيُحَارِبَ الَّذِينَ تعالیٰ نے اپنے رسول مظلوم کو اس آیت میں ان لوگوں هُمْ بَدَأُوُا أَوَّلَ مَرَّةٍ بَعْدَ أَنْ رَأَى شِدَّةَ کے مقابل پر ہتھیار اٹھانے کی اجازت دی جن کی طرف اعْتِدَائِهِمْ وَكَمَالَ حِقْدِهِمْ وَضَلَالِهِمْ، سے ابتدا تھی مگر اس وقت اجازت دی جبکہ انتہا درجہ کی وَرَأَى أَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يُرْجِی بِالْمَوَاعِظ زیادتی اور گمراہی ان کی طرف سے دیکھ لی اور یہ دیکھ لیا کہ صَلَاحُ أَحْوَالِهِمْ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ وہ ایک ایسی قوم ہے کہ بھر دنصیحتوں سے ان کی اصلاح غیر حَرْبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ممکن ہے پس اب سوچو کہ چو کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وَمَا حَارَبَ نَبِيُّ اللَّهِ أَعْدَاءَ الدِّيْنِ إِلَّا بَعْدَ لڑائیوں کی کیا حقیقت تھی اور نبی اللہ دشمنان دین سے مَا رَاهُمْ سَابِقِيْنَ فِي التَّرَامِي بِالسّهامِ ہرگز نہیں لڑا مگر جب تک کہ اس نے یہ نہ دیکھ لیا کہ وہ تیر وَالتَّجَالُ بِالْحُسَامِ، وَمَا كَانَ الْكُفَّارُ چلانے اور تلوار مارنے میں پیش دست اور سبقت کرنے مَقْتُولِيْنِ فَقَط بَلْ كَانَ يَسْقُطُ مِن والے ہیں اور نیز یہ تو نہیں تھا کہ صرف کفار ہی مارے