تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 379
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۹ سورة الحج لڑائیاں کرنے کا حکم ہوا ۔۔۔ یہ ہرگز نہیں کہ ان لڑائیوں میں کسی قسم کا یہ ارادہ تھا کہ قتل کی دھمکی دے کر ان لوگوں کو مسلمان کر دیا جائے بلکہ وہ تو طرح طرح کے جرائم اور خونریزیوں کے سبب سے پہلے سے واجب القتل ہو چکے تھے اور اسلامی رعایتوں میں سے جو ان کے ساتھ رب رحیم نے کیں ایک یہ بھی رعایت تھی کہ اگر کسی کو توفیق اسلام نصیب ہو تو وہ بچ سکتا ہے۔ اس میں جبر کہاں تھا عرب پر تو انہیں کے سابقہ جرائم کی وجہ سے فتوی قتل کا ہو گیا تھا۔ ہاں باوجود اس کے یہ رعایتیں بھی تھیں کہ ان کے بچے نہ مارے جائیں ان کے بڑھے نہ مارے جائیں ان کی عورتیں نہ ماری جائیں اور ساتھ اس کے یہ بھی رعایت کہ بصورت ایمان لانے کے وہ بھی نہ مارے جائیں ۔ جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۴۴، ۲۴۵) جنہوں نے تلواروں سے قتل کیا وہ تلواروں سے ہی مارے گئے ۔ جنہوں نے ناحق غریبوں کو لوٹا وہ لوٹے گئے جیسا کیا ویسا پایا بلکہ ان کے ساتھ بہت نرمی کا برتاؤ ہوا جس پر آج اعتراض کیا جاتا ہے کہ کیوں ایسا برتاؤ ہوا سب کو قتل کیا ہوتا ۔ (جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۷۶) لڑائیوں کے سلسلہ کو دیکھنا از بس ضروری ہے اور جب تک آپ سلسلہ کو نہ دیکھو گے اپنے تئیں عمداً یا سہواً بڑی غلطیوں میں ڈالو گے۔ سلسلہ تو یہ ہے کہ اول کفار نے ہمارے نبی صلعم کے قتل کا ارادہ کر کے آخر اپنے حملوں کی وجہ سے ان کو مکہ سے نکال دیا۔ اور پھر تعاقب کیا اور جب تکلیف حد سے بڑھی تو پہلا حکم جو لڑائی کے لئے نازل ہوا وہ یہ تھا اُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٌّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ ( س ۷ار ۱۳ ) یعنی ان لوگوں کو مقابلہ کی اجازت دی گئی جن کے قتل کے لئے مخالفوں نے چڑھائی کی ۔ اس وجہ سے اجازت دی گئی کہ ان پر ظلم ہوا اور خدا مظلوم کی حمایت کرنے پر قادر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے وطنوں سے ناحق نکالے گئے اور ان کا گناہ بجز اس کے اور کوئی نہ تھا جو ہمارا رب اللہ ہے۔ جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۵۴، ۲۵۵) اسلام نے تلوار اُٹھانے میں سبقت نہیں کی اور اسلام نے صرف بوقت ضرورت امن قائم کرنے کی حد تک تلوار اٹھائی ہے اور اسلام نے عورتوں اور بچوں اور راہبوں کے قتل کرنے کے لئے حکم نہیں دیا بلکہ جنہوں نے سبقت کر کے اسلام پر تلوار کھینچی وہ تلوار سے ہی مارے گئے ۔ اور تلوار کی لڑائیوں میں سب سے بڑھ کر توریت کی تعلیم ہے جس کی رو سے بیشمار عورتیں اور بچے بھی قتل کئے گئے جس خدا کی نظر میں وہ بے رحمی اور سختی کی لڑائیاں بڑی نہیں تھیں بلکہ اُس کے حکم سے تھیں تو پھر نہایت بے انصافی ہوگی کہ وہی خدا اسلام کی ان