تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 374 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 374

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۴ سورة الحج بولنے والے چاہیں کہ ہمارا جھوٹ کم ہو جاوے تو جلدی سے دور نہیں ہوتا۔ مدت تک ریاضت کریں تب جا کر سچ بولنے کی عادت ان کو ہوگی ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۱ مورخه ۳۱ اگست ۱۹۰۲ ء صفحه ۲) اللہ تعالیٰ نے تو جھوٹ کو نجاست کہا تھا کہ اس سے پرہیز کرو اجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّورِ بت پرستی کے ساتھ اس جھوٹ کو ملایا ہے ۔ جیسا احمق انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پتھر کی طرف سر جھکاتا ہے ویسے ہی صدق اور راستی کو چھوڑ کر اپنے مطلب کے لئے جھوٹ کو بت بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بت پرستی کے ساتھ ملایا اور اس سے نسبت دی جیسے ایک بت پرست بت سے نجات چاہتا ہے۔ جھوٹ بولنے والا بھی اپنی طرف سے بت بناتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس بت کے ذریعہ نجات ہو جاوے گی ۔ کیسی خرابی آ کر پڑی ہے۔ اگر کہا جاوے کہ کیوں بت پرست ہوتے ہو اس نجاست کو چھوڑ دو تو کہتے ہیں کہ کیوں کر چھوڑ دیں ۔ اس کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا اس سے بڑھ کر اور کیا بد قسمتی ہوگی جھوٹ پر اپنی زندگی کا مدار سمجھتے ہیں مگر میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ آخر سچ ہی کامیاب ہوتا ہے۔ بھلائی اور فتح اسی کی ہے ۔۔۔۔ یقیناً یاد رکھو جھوٹ جیسی کوئی منحوس چیز نہیں عام طور پر دنیا دار کہتے ہیں کہ سچ بولنے والے گرفتار ہو جاتے ہیں مگر میں کیوں کر اس کو باور کروں مجھ پر سات مقدمے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے کسی ایک میں ایک لفظ بھی مجھے جھوٹ لکھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ کوئی بتائے کہ کسی ایک میں بھی خدا تعالیٰ نے مجھے شکست دی ہو۔ اللہ تعالی تو آپ سچائی کا حامی اور مددگار ہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ راست کو سزا دے؟ اگر ایسا ہو تو پھر دنیا میں کوئی شخص سچ بولنے کی جرات نہ کرے اور خدا تعالیٰ پر سے ہی اعتقاداً باز اد اٹھ جاوے۔ راستباز تو زندہ ہی مرجاویں۔ اصل بات یہ ہے کہ سچ بولنے سے جو سزا پاتے ہیں وہ سچ کی وجہ سے نہیں ہوتی وہ سزا ان کی بعض اور مخفی در مخفی بدکاریوں کی ہوتی ہے اور کسی اور جھوٹ کی سزا ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ کے پاس تو ان کی بدیوں اور شرارتوں کا ایک سلسلہ ہوتا ہے ان کی بہت سی خطائیں ہوتی ہیں اور کسی نہ کسی میں وہ سزا پا لیتے ہیں ۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۷ امورخہ ۷ ۱ رمئی ۱۹۰۶ ء صفحه ۵،۴ ) ذلِكَ وَمَنْ يُعَظِمُ شَعَابِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ ۔ ( قبلہ کی طرف پاؤں کر کے سونے کے متعلق فرمایا ) یہ نا جائز ہے کیونکہ تعظیم کے برخلاف ہے۔ ( سائل نے عرض کی کہ احادیث میں اس کی ممانعت نہیں آئی۔ فرمایا کہ ) یہ کوئی دلیل نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص اسی بناء