تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 367 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 367

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۳۶۷ سورة الحج بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الحج بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ يايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٍ عَظِيمٌ ۔ ساعة سے مراد قیامت بھی ہوگی ۔ ہم کو اس سے انکار نہیں ۔ مگر اس میں سکرات الموت ہی مراد ہے کیونکہ انقطاع۔ انقطاع تام کا وقت ہوتا ہے۔ انسان اپنے محبوبات اور مرغوبات سے یک دفعہ الگ ہوتا ہے اور ایک عجب قسم کا زلزلہ اس پر طاری ہوتا ہے گویا اندر ہی اندر وہ ایک شکنجہ میں ہوتا ہے اس لئے انسان کی تمام تر سعادت یہی ہے کہ وہ موت کا خیال رکھے اور دنیا اور اس کی چیزیں اس کی ایسی محبوبات نہ ہوں جو اس آخری ساعت میں علیحدگی کے وقت اس کی تکالیف کا موجب ہوں ۔ دنیا اور اس کی چیزوں کے متعلق ایک شاعر نے کہا ہے۔ این همه در کشتنت آهنگ گاه بصلح کشند و گاه بجنگ الحکم جلد ۴ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۰ ء صفحه ۲) يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلْ كُلُّ مُرْضِعَةِ عَمَّا اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكرى وَمَا هُمْ بِسُكرى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ طرح طرح کے لباسوں میں موتیں وارد ہو رہی ہیں ۔ طاعون ہے۔ وبائیں ہیں ۔ قحط ہے۔ زلزلے ہیں ۔