تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 364 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 364

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۴ سورة الانبياء یہ بھی یا د رکھنا چاہیے کہ ہر شخص کا کلام اس کی ہمت کے موافق ہوتا ہے جس قدر اس کی ہمت اور عزم اور مقاصد عالی ہوں گے اسی پایہ کا وہ کلام ہوگا اور وحی الہی میں بھی یہی رنگ ہوتا ہے جس شخص کی طرف اس کی وحی آتی ہے جس قدر ہمت بلند رکھنے والا وہ ہوگا اسی پایہ کا کلام اسے ملے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت و استعداد اور عزم کا دائرہ چونکہ بہت ہی وسیع تھاس لئے آپ کو جو کلام ملا وہ بھی اس پایہ اور رتبہ کا ہے اور دوسرا کوئی شخص اس ہمت اور حوصلہ کا کبھی پیدا نہ ہوگا کیونکہ آپ کی دعوت کسی محدود وقت یا مخصوص قوم کے لئے نہ تھی جیسے آپ سے پہلے نبیوں کی ہوتی تھی بلکہ آپ کے لئے فرمایا گیا قُلْ ۔۔۔ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا اور مَا أَرْسَلْتُكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ - جس شخص کی بعثت اور رسالت کا دائرہ اس قدر وسیع ہو اس کا الحکم جلدے نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۳ء صفحه ۲) مقابلہ کون کر سکتا ہے۔ یا درکھو کہ کتاب مجید کے بھیجنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا ہے کہ دنیا پر عظیم الشان رحمت کا نمونہ دکھاوے جیسے فرمایا وَ مَا أَرْسَلْتُكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ - الحکم جلد ۹ نمبر ۹ مورخه ۷ ار مارچ ۱۹۰۵ ء صفحه ۶ ) یعنی اے نبی کریم ہم نے تمہیں تمام عالم پر رحمت کے لئے بھیجا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۱۰ مورخه ۱۷ / مارچ ۱۹۰۲ء صفحه (۳) مَا أَرْسَلْتُكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر صادق آتا ہے کہ جب آپ ہر ایک قسم کے خلق سے ہدایت کو پیش کرتے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ نے اخلاق ،صبر ، نرمی ، اور نیز مار ہر ایک طرح سے اصلاح کے کام کو پورا کیا اور لوگوں کو خدا کی طرف توجہ دلائی۔ مال دینے میں ، نرمی برتنے میں عقلی دلائل اور معجزات کے پیش کرنے میں آپ نے کوئی فرق نہیں رکھا۔ اصلاح کا ایک طریق ما ر بھی ہوتا ہے کہ جیسے ماں ایک وقت بچہ کو مار سے ڈراتی ہے وہ بھی آپ نے برت لیا تو مار بھی ایک خدا کی رحمت ہے کہ جو آدمی اور کسی طریق سے نہیں سمجھتے خدا ان کو اس طریق سے سمجھاتا ہے کہ وہ نجات پاویں۔ خدا تعالیٰ نے چار صفات جو مقرر کی ہیں جو کہ سورۃ فاتحہ کے شروع میں ہیں رسول اللہ صلعم نے ان چاروں سے کام لے کر تبلیغ کی ہے مثلاً پہلے رب العالمین یعنی عام ربوبیت ہے تو آیت مَا أَرْسَلْتُكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ اس کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ پھر ایک جلوہ رحمانیت کا بھی ہے کہ آپ کے فیضان کا بدل نہیں ہے۔ ایسی ہی دوسری صفات ۔ البدر جلد ۲ نمبر ۲۹ مورخہ ۷ را گست ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲۲۶)