تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 360
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَعِلِينَ سورة الانبياء ہم اس دن آسمانوں کو ایسا لپیٹ لیں گے جیسے ایک خط متفرق مضامین کو اپنے اندر لپیٹ لیتا ہے اور جس طرز سے ہم نے اس عالم کو وجود کی طرف حرکت دی تھی انہیں قدموں پر پھر یہ عالم عدم کی طرف لوٹا یا جائے گا۔ یہ وعدہ ہمارے ذمہ ہے جس کو ہم کرنے والے ہیں۔ بخاری نے بھی اس جگہ ایک حدیث لکھی ہے جس میں جائے غور یہ لفظ ہیں وَ تَكُونُ السَّمَوتُ بِيَمِينِهِ یعنی پیٹنے کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں چھپالے گا۔ اور جیسا کہ اب اسباب ظاہر اور مسبب پوشیدہ ہے اس وقت مسبب ظاہر اور اسباب زاویہ عدم میں چھپ جائیں گے اور ہر ایک چیز اس کی طرف رجوع کر کے تجلیات قہر یہ میں مخفی ہو جائے گی اور ہر یک چیز اپنے مکان اور مرکز کو چھوڑ دے گی اور تجلیات الہیہ اس کی جگہ لیں گی اور علل نا قصہ کے فنا اور انعدام کے بعد علت تامہ کاملہ کا چہرہ نمودار ہو جائے گا۔ (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۵۲ تا ۱۵۴ حاشیه در حاشیه ) وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصُّلِحُونَ ہم نے زبور میں ذکر کے بعد لکھا ہے کہ جو نیک لوگ ہیں وہی زمین کے وارث ہوں گے یعنی ارضِ شام کے (زبور ۳۷) ( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۶۱ حاشیہ نمبر ۱۱) یہ حقیر خیال خدا تعالیٰ کی نسبت تجویز کرنا کہ اس کو صرف اس امت کے تیس برس کا ہی فکر تھا اور پھر ان کو ہمیشہ کے ضلالت میں چھوڑ دیا اور وہ نور جو قدیم سے انبیاء سابقین کی امت میں خلافت کے آئینہ - - میں وہ دکھلاتا رہا اس امت کے لئے دکھلانا اس کو منظور نہ ہوا کیا عقلِ سلیم خدائے رحیم و کریم کی نسبت ان باتوں کو تجویز کرے گی ۔ ہرگز نہیں ۔ اور پھر یہ آیت خلافت آئمہ پر گواہ ناطق ہے وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصُّلِحُونَ۔ کیونکہ یہ آیت صاف صاف پکار رہی ہے کہ اسلامی خلافت دائمی ہے اس لئے کہ يَرِثُهَا کا لفظ دوام کو چاہتا ہے وجہ یہ کہ اگر آخری نوبت فاسقوں کی ہو تو زمیں کے وارث وہی قرار پائیں گے نہ صالح اور سب کا وارث وہی ہوتا ہے جو سب