تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 341 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 341

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۱ سورة الانبياء ( اس سوال کے جواب میں کہ اس امر کی تائید میں کہ مریم علیہا السلام نے ساری عمر نکاح نہیں کیا یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ قرآن میں آیا ہے وَ الَّتِي اَحْصَنَتْ فَرَجَهَا ۔ فرمایا ) محصنات تو قرآن شریف میں خود نکاح والی عورتوں پر بولا گیا ہے وَ الْمُحْصَنْتُ مِنَ النِّسَاءِ اور الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا کے معنے تو یہ ہیں کہ اس نے زنا سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا۔ یہ کہاں سے نکلا کہ اس نے سای عمر نکاح ہی نہیں کیا۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۶ مورخه ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۰) قرآن شریف نے آکر ان دونوں قوموں (یہود و نصاریٰ) کی غلطیوں کی اصلاح کی ۔ عیسائیوں کو بتایا کہ وہ خدا کا رسول تھا خدا نہ تھا اور وہ ملعون نہ تھا مرفوع تھا اور یہودیوں کو بتایا کہ وہ ولد الزنا نہ تھا بلکہ مریم صدیقہ عورت تھی ۔ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا کی وجہ سے اس میں نفخ روح ہوا تھا۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۲ء صفحه (۳) أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا پر مخالفین کے اس اعتراض پر کہ یہ خلاف تہذیب ہے فرمایا : ) جو خدا تعالیٰ کو خالق سمجھتے ہیں تو کیا اس خلق کو لغو اور باطل قرار دیتے ہیں جب اس نے ان اعضاء کو خلق کیا اس وقت تہذیب نہ تھی۔ خالق مانتے ہیں اور خلق پر اعتراض نہیں کرتے ہیں تو پھر اس ارشاد پر اعتراض کیوں؟ دیکھنا یہ ہے کہ کیا زبان عرب میں اس لفظ کا استعمال ان کے ۔۔۔۔ عرف کے نزدیک کوئی خلاف تہذیب امر ہے جب نہیں تو دوسری زبان والوں کا حق نہیں کہ اپنے عرف کے لحاظ سے اسے خلاف تہذیب ٹھہرائیں ۔ ہر سوسائٹی کے معرفی الفاظ اور مصطلحات الگ الگ ہیں اور تہذیب اور خلاف تہذیب امور الگ ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۰) قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے مومن کی دو مثالیں بیان فرمائی ہیں ایک مثال فرعون کی عورت سے ہے جو کہ اس قسم کے خاوند سے خدا کی پناہ چاہتی ہے یہ ان مومنوں کی مثال ہے جو نفسانی جذبات کے آگے گرگر جاتے ہیں اور غلطیاں کر بیٹھتے ہیں پھر پچھتاتے ہیں تو بہ کرتے ہیں خدا سے پناہ مانگتے ہیں ان کا نفس فرعون سے خاوند کی طرح ان کو تنگ کرتا رہتا ہے وہ لوگ نفس لوامہ رکھتے ہیں بدی سے بچنے کے لئے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں ۔ دوسرے مومن وہ ہیں جو اس سے اعلیٰ درجہ رکھتے ہیں وہ صرف بدیوں سے ہی نہیں بچتے بلکہ نیکیوں کو حاصل کرتے ہیں ان کی مثال اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم سے دی ہے اَحْصَنَتْ فَرَجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِنْ رُوحِنَا - ہر ایک مومن جو تقویٰ اور طہارت میں کمال پیدا کرے وہ بروزی طور پر مریم ہوتا ہے اور