تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 339 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 339

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۹ سورة الانبياء کو راضی کرنے کے ہیں۔ علم تعبیر الرویا میں مال کلیجہ ہوتا ہے اس لئے خیرات کرنا جان دینا ہوتا ہے۔ انسان خیرات کرتے وقت کسی قدر صدق و ثبات دکھاتا ہے اور اصل بات تو یہ ہے کہ صرف قیل و قال سے کچھ نہیں بنتا جب تک کہ عملی رنگ میں لا کر کسی بات کو نہ دکھا یا جاوے۔ صدقہ اس کو اسی لئے کہتے کہ صادقوں پر نشان کر دیتا ہے۔ حضرت یونس کے حالات میں ڈر منشور میں لکھا ہے کہ آپ نے کہا کہ مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ جب تیرے سامنے کوئی آوے گا تجھے رحم آجائے گا۔ این مشتِ خاک را گر نہ بخشم چه کنم الحکم جلد ۲ نمبر ۲ مورخه ۱۶ مارچ ۱۸۹۸ء صفحه ۲) لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَنَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ ۔۔۔۔۔ یعنی اے خدا تو پاک ہے تیرے سوا اور کوئی نہیں۔ میں ظالموں میں سے تھا۔ ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه (۲۱۶) وَزَكَرِيَّا إِذْ نَادَى رَبَّهُ رَبِّ لَا تَذَرُنِي فَرْدًا وَ أَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ ۔ اے خدا مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے۔ (تحفة الندوه، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه (۹۷) مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تو خیر الوارثین ہے۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۹۵) مجھے اکیلا مت چھوڑ اور ایک جماعت بنادے۔ (الحکم جلدا انمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۷ء صفحه ۹) وَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِنْ رُوحِنَا وَ جَعَلْنَهَا وَ ابْنَهَا آيَةً لِلْعَلَمِينَ إِنَّ هَذِهِ أَمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ وَ تَقَطَّعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ كُلٌّ إِلَيْنَا رَجِعُونَ ، فَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصُّلِحَتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعِيهِ وَإِنَّا لَهُ كَتِبُونَ ۔ مریم نے جب اپنے اندام نہانی کو نامحرم سے محفوظ رکھا ۔ یعنی غایت درجہ کی پاکدامنی اختیار کی تو ہم نے اُس کو یہ انعام دیا کہ وہ بچہ اس کو عنایت کیا کہ جو روح القدس کے نفخ سے پیدا ہوا تھا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے جو دنیا میں بچے دو قسم کے پیدا ہوتے ہیں (۱) ایک جن میں نفخ روح القدس کا اثر ہوتا ہے۔ اور