تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 316
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۶ سورة الانبياء اندر لپیٹ لیتا ہے۔ اور جس طرز سے ہم نے اس عالم کو وجود کی طرف حرکت دی تھی انہیں قدموں پر پھر یہ عالم عدم کی طرف لوٹایا جائے گا یہ وعدہ ہمارے ذمہ ہے جس کو ہم کرنے والے ہیں ۔ بخاری نے بھی اس جگہ ایک حدیث لکھی ہے جس میں جائے غور یہ لفظ ہیں ۔ وَتَكُونَ السَّمَوَاتُ بِيَمِينِہ یعنی پیٹنے کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں چھپالے گا اور جیسا کہ اب اسباب ظاہر اور مسبب پوشیدہ ہے اس وقت مسبب ظاہر اور اسباب زاویہ عدم میں چھپ جائیں گے اور ہر یک چیز اس کی طرف رجوع کر کے تجلیات قہر یہ میں مخفی ہو جائے گی۔ اور ہر یک چیز اپنے مکان اور مرکز کو چھوڑ دے گی اور تجلیات الہیہ اس کی جگہ لیں گی ۔ اور علل ناقصہ کے فنا اور انعدام کے بعد علت تامہ کاملہ کا چہرہ نمودار ہو جائے گا اسی کی طرف اشارہ ہے كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ ( الرحمن : ۲۸،۲۷ ) - لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ( المؤمن : (۱۷) یعنی خدا تعالیٰ اپنی قہری تجلی سے ہر یک چیز کو معدوم کر کے اپنی وحدانیت اور یگانگت دکھلائے گا اور خدا تعالیٰ کے وعدوں سے مراد یہ بات نہیں کہ اتفاقاً کوئی بات منہ سے نکل گئی اور پھر ہر حال گلے پڑا ڈھول بجانا پڑا کیونکہ اس قسم کے وعدے خدائے حکیم وعلیم کی شان کے لائق نہیں یہ صرف انسان ضعیف البنیان کا خاصہ ہے جس کا کوئی وعدہ تکلف اور ضعف یا مجبوری اور لاچاری کے موانع سے ہمیشہ محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اور با ایں ہمہ تقریبات اتفاقیہ پر مبنی ہوتا ہے نہ علم اور یقین اور حکمت قدیمہ پر۔ مگر خدا تعالیٰ کے وعدے اس کی صفات قدیمہ کے تقاضا کے موافق صادر ہوتے ہیں اور اس کے مواعید اس کی غیر متناہی حکمت کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے۔ اور اگر اس جگہ کوئی یہ اعتراض پیش کرے کہ خدا تعالیٰ نے آسمانوں کو سات میں کیوں محدود کیا اس کی کیا وجہ ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ در حقیقت یہ تاثیرات مختلفہ کی طرف اشارہ ہے جو مختلف طبقات سماوی سے مختلف ستارے اپنے اندر جذب کرتے ہیں۔ اور پھر زمین پر ان تاثیرات کو ڈالتے ہیں۔ چنانچہ اسی کی تصریح اس آیت میں موجود ہے اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمُوتٍ وَ مِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا ( الطلاق : ١٣ ) - الجزو نمبر ۲۸ یعنی خدائے تعالیٰ نے آسمانوں کو سات پیدا کیا اور ایسا ہی زمینیں بھی سات ہی پیدا کیں اور ان سات آسمانوں کا اثر جو بامر الہی ان میں پیدا ہے سات زمینوں میں ڈالا تا کہ تم لوگ معلوم کر لو کہ خدا تعالیٰ ہر ایک چیز کے بنانے پر اور ہر ایک انتظام کے کرنے پر اور رنگا رنگ کے پیرائیوں میں اپنے کام دکھلانے پر قدرت تامہ رکھتا ہے اور تا تمہارے