تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 305
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۵ سورة الانبياء أَيُّهَا النُّولَى مِنْ غَيْرِ أَنَّكُمْ تَنْصُرُونَ بِهِ فائدہ ہے کہ پادریوں کو مدد دیتے ہو اور زمانہ کی طرف النَّصَارَى أَفَلَا تَنْظُرُونَ إِلَى الزَّمَانِ وَقَدْ نہیں نظر کرتے ہو اور نہیں دیکھتے ہو کہ کس قدر مسلمان نَزَلَتْ عَلَيْكُمْ بَلِيَّةٌ عُظمى وَتَنَصَّرَ فَوْجٌ مِنْ نصرانی ہو گئے اور کس قدر خدا کے بندے ہلاک قَوْمِكُمْ وَاحِبَّاءِ كُمْ وَهَلَكَتِ الْبِلادُ ہو گئے ۔ خدا کے بندوں پر بڑی بلا اتری۔ اگر خدا کا وَالْعِبَادُ وَاهْتَزَّ عَرْشُ الرَّحْمَنِ لِمَا نَزَلَ فَقَضَی یہی ارادہ ہوتا کہ کسی کو آسمان سے اتارتا جیسا کہ تمہارا مَا قَطَى وَلَوْ أَرَادَ اللهُ أَنْ يُنَزِلَ أَحَدًا مِن گمان ہے تو بہتر یہ تھا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو السَّمَاءِ كَمَا زَعَمْتُمْ لَكَانَ خَيْرًا لَكُمْ أَنْ آسمان سے اتارتا ۔ خدا نے جو فرمایا تم نے اب تک يُنَزِّلَ نَبِيَّكُمُ الْمُصْطَفى أَمَا قَرَءُ تُمْ قَوْلَهُ نہیں پڑھا کہ اگر ہم بیٹا بناتے تو اپنے پاس سے بیٹا تَعَالَى لَوْ أَرَدْنَا أَن نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّا تَخَذْنَاهُ مِنْ بناتے ۔ یعنی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ۔ اس آیت لَّدُنَا يَعْنِي مُحَمَّدًا فَانْظُرُوا نَظَرًا۔ ( خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۱۲۶ ، ۱۲۷) میں تدبر کو۔ ( ترجمہ اصل کتاب سے ) لَوْ كَانَ فِيهِمَا الهَهُ إِلَّا اللهُ لَفَسَدَنَا فَسُبْحْنَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ اس ( یعنی خدا تعالیٰ ۔ ناقل ) کے وحدہ لاشریک ہونے پر ایک عقلی دلیل بیان فرمائی اور کہا تو گان فِيهِمَا الهَهُ إِلَّا اللهُ لَفَسَدَنَا ( الانبياء : ٢٣) - وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إله الخ (المؤمن : ۹۲) یعنی اگر زمین آسمان میں بجز اس ایک ذات جامع صفات کاملہ کے کوئی اور بھی خدا ہوتا تو وہ دونوں بگڑ جاتے کیونکہ ضرور تھا کہ کبھی وہ جماعت خدائیوں کی ایک دوسرے کے برخلاف کام کرتے۔ پس اسی پھوٹ اور اختلاف سے عالم عالم میں فساد راہ پاتا اور نیز اگر الگ الگ خالق ہوتے تو ہر واحد ان میں سے اپنی ہی مخلوق کی بھلائی چاہتا اور ان کے آرام کے لئے دوسروں کا برباد کر نا روا رکھتا۔ پس یہ بھی موجب فساد عالم ٹھہرتا۔ ( براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۱۹،۵۱۸ حاشیه در حاشیه نمبر (۳) ہم لوگ جو خدا تعالیٰ کو رب العرش کہتے ہیں تو اس سے یہ مطلب نہیں کہ وہ جسمانی اور جسم ہے اور عرش کا