تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 303
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۳ سورة الانبياء الطَّعَامَ مسیح جسم خاکی کے ساتھ دوسرے آسمان میں بغیر حاجت طعام کے یونہی فرشتوں کی طرح زندہ ہے در حقیقت خدائے تعالیٰ کے پاک کلام سے روگردانی ہے۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۷۸،۲۷۷) جب ہم اس آیت پر بھی نظر ڈالیں کہ جو اللہ جل شانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ کوئی جسم کسی بشر کا ہم نے ایسا نہیں بنایا کہ بغیر روٹی کے زندہ رہ سکے تو ہمارے مخالفوں کے عقیدہ کے موافق یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہ آسمان پر روٹی بھی کھاتے ہوں پاخانہ بھی پھرتے ہوں اور ضروریات بشریت جیسے کپڑے اور برتن اور کھانے کی چیزیں سب موجود ہوں ۔ مگر کیا یہ سب کچھ قرآن اور حدیث سے ثابت ہو جائے گا ؟ ہر گز نہیں ۔ آخر ہمارے مخالف یہی جواب دیں گے کہ جس طرز سے وہ آسمان پر زندگی بسر کرتے ہیں وہ انسان کی معمولی زندگی سے نرالی ہے اور وہ انسانی حاجتیں جو زمین پر زندہ انسانوں میں پائی جاتی ہیں وہ سب اُن سے دور کر دی گئی ہیں اور اُن کا جسم اب ایک ایسا جسم ہے کہ نہ خوراک کا محتاج ہے اور نہ پوشاک کا اور نہ پاخانہ کی حاجت انہیں ہوتی ہے اور نہ پیشاب کی ۔ اور نہ زمین کے جسموں کی طرح اُن کے جسم پر زمانہ اثر کرتا ہے اور نہ وہ اب مکلف احکام شرعیہ ہیں ۔ تو اس کا یہ جواب ہے کہ خدائے تعالیٰ تو صاف فرماتا ہے کہ ان تمام خاکی جسموں کے لئے جب تک زندہ ہیں۔ یہ تمام لوازم غیر منفک ہیں جیسا کہ اس نے فرمایا وَ مَا جَعَلْتُهُم جَسَدً الَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ ۔ ظاہر ہے کہ اس آیت میں جو کے ذکر سے گل مراد ہے یعنی گوا تنا ہی ذکر فرمایا کہ کسی نبی کا جسم ایسا نہیں بنایا گیا جو بغیر طعام کے رہ سکے ۔ مگر اس کے ضمن میں گل وہ لوازم و نتائج جو طعام کو لگے ہوئے ہیں سب اشارۃ النص کے طور پر فرما دیئے ۔ سو اگر مسیح ابن مریم اسی جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر گیا ہے تو ضرور ہے کہ طعام کھاتا ہو اور پاخانہ اور پیشاب کی ضروری حاجتیں سب اس کی دامنگیر ہوں کیونکہ کلام الہی میں کذب جائز نہیں ۔ اور اگر یہ کہو کہ دراصل بات یہ ہے کہ مسیح اس جسم کے ساتھ آسمان پر نہیں گیا بلکہ یہ جسم تو زمین میں دفن کیا گیا اور ایک اور نورانی جسم مسیح کو ملا جو کھانے پینے سے پاک تھا اس جسم کے ساتھ اُٹھایا گیا تو حضرت یہی تو موت ہے جس کا آخر آپ نے اقرار کر لیا۔ ہمارا بھی تو یہی مذہب ہے کہ مقدس لوگوں کو موت کے بعد ایک نورانی جسم ملتا ہے اور وہی نور جو وہ ساتھ رکھتے ہیں جسم کی طرح اُن کے لئے ہو جاتا ہے سو وہ اس کے ساتھ آسمان کی طرف اُٹھائے جاتے ہیں اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ ( فاطر : 11) یعنی پاک روحیں جو نورانی