تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 301

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۱ سورة الانبياء بے خبر ہیں ۔ نشانی آسمانی، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۳۹۲ تا ۳۹۵) اولون کا لفظ صاف بتاتا ہے کہ اب زمانہ ترقی کر گیا ہے پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سونٹے کا سانپ بنا کر دکھاتے تو وہ بھلا کب مؤثر ہو سکتا تھا۔ اس قسم کے نشانات تو ابتدائے زمانہ میں کام آنے والے تھے۔ جیسے ایک چھوٹے بچہ کے لئے جو پاجامہ سیا گیا ہے وہ اس کے بالغ ہونے پر کب کام آ سکتا ہے۔ اسی طرح پر وہ زمانہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا اس قسم کے نشانات کا محتاج نہ تھا بلکہ اس میں بہت ہی اعلیٰ درجے کے خوارق کی ضرورت تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات اپنے اندر ایک علمی سلسلہ رکھتے ہیں۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۴۱ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۱ء صفحه ۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو آیا ہے کہ وہ مثیل موسیٰ تھے کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ نے عصا کا سانپ بنایا ہو۔ کا فریہ اعتراض کرتے رہے فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ ۔ معجزہ ہمیشہ حالت موجودہ کے موافق ہوتا ہے پہلے نشانات کافی نہیں ہو سکتے اور نہ ہر زمانہ میں ایک ہی قسم کے نشان کافی ہو سکتے ہیں۔ الحکم جلدے نمبر ۷ مورخہ ۲۱ رفروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۴) وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ فَسْلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا پروروور تعلمون ۔ یعنی خدا کی سنتوں اور عادات کا نمونہ یہود اور نصاری سے پوچھ لو اگر تمہیں معلوم نہیں۔ (کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۳) کتب سابقہ میں جو بنی اسرائیلی نبیوں پر نازل ہوئی تھیں صاف اور صریح طور پر معلوم ہوتا ہے بلکہ نام لے کر بیان کیا ہے کہ یا جوج ماجوج سے مراد یورپ کی عیسائی قومیں ہیں اور یہ بیان ایسی صراحت سے ان کتابوں میں موجود ہے کہ کسی طرح اس سے انکار نہیں ہو سکتا ۔ اور یہ کہنا کہ وہ کتابیں محرف مبدل ہیں ۔ ان کا بیان قابل اعتبار نہیں ایسی بات وہی کہے گا جو خود قرآن شریف سے بے خبر ہے۔ کیونکہ اللہ جل شانہ مومنوں کو قرآن شریف میں فرماتا ہے فَسَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ یعنی فلاں فلاں باتیں اہل کتاب سے پوچھ لو اگر تم بے خبر ہو۔ پس ظاہر ہے کہ اگر ہر ایک بات میں پہلی کتابوں کی گواہی نا جائز ہوتی تو خدا تعالیٰ کیوں مومنوں کو فرما تا کہ اگر تمہیں معلوم نہیں تو اہل کتاب سے پوچھ لو بلکہ اگر نبیوں کی کتابوں سے کچھ فائدہ