تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 298
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۸ سورة الانبياء الْأَوَّلُونَ۔ غور سے سنو کہ عقلمندوں اور سوچنے والوں کے لئے میرے دعوئی کے ساتھ اس قدر نشان موجود ہیں کہ اگر وہ انصاف سے کام لیں تو ان کے تسلی پانے کے لئے نہایت کافی وشافی ذخیرہ خوارق موجود ہے ہاں اگر کوئی اس شخص کی طرح جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مینہ کے بارے میں معجزہ استجابت دعا د یکھ کر یعنی کئی برسوں کے امساک باراں کے بعد مینہ برستا ہوا مشاہدہ کر کے پھر کہہ دیا تھا کہ یہ کوئی معجزہ نہیں۔ اتفاقاً بادل آیا اور مینہ برس گیا۔ انکار سے باز نہ آوے تو ایسے شخص کا علاج ہمارے پاس نہیں۔ ایسے لوگ ہمارے سیدو مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیشہ آسمانی نشان دیکھتے رہے پھر یہ کہتے رہے فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا ارْسِلَ الْأَوَّلُونَ ۔ جو شخص سچے دل سے خدا کا نشان دیکھنا چاہتا ہے اس کو چاہئے کہ سب سے پہلے اس نشان پر نظر کرے کہ اس عاجز کا ظاہر ہونا عین اس وقت میں ہے جس وقت کا ذکر ہمارے سید خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے آپ فرمایا ہے یعنی صدی کا سر ۔ پھر آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ صلیب کے غلبہ کے وقت ایک شخص پیدا ہوگا جو صلیب کو توڑے گا۔ ایسے شخص کا نام آنحضرت نے مسیح ابن مریم رکھا انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ۱ ۱ صفحه ۲۸۵) ہے۔ یہ یاد رکھو کہ تمام نبیوں نے اُن لوگوں کو ملعون ٹھہرایا ہے جو نبیوں اور ماموروں سے اقتراحی نشان مانگتے ہیں۔ دیکھو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کیا فرمایا کہ اس زمانہ کے حرامکار مجھ سے نشان ما نگتے ہیں انہیں کوئی نشان دکھلا یا نہیں جائے گا۔ ایسا ہی قرآن نے ان لوگوں کا نام ملعون رکھا جو لوگ حضرت سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تجویز سے نشان مانگا کرتے تھے جن کا بار بار لعنت کے ساتھ قرآن شریف میں ذکر ہے جیسا کہ وہ لوگ کہتے تھے فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ یعنی ہمیں حضرت موسیٰ کے نشان دکھلائے جائیں یا حضرت مسیح کے اور کبھی آسمان پر چڑھ جانے کی درخواست کرتے تھے اور کبھی یہ نشان ما نگتے تھے کہ سونے کا گھر آپ کے لئے بن جائے اور ہمیشہ انہیں نفی میں جواب ملتا تھا۔ تمام قرآن شریف کو اوّل سے آخر تک دیکھو کہیں اس بات کا نام و نشان نہ پاؤ گے کہ کسی کافر نے اپنی طرف سے یہ نشان مانگا ہو کہ کسی کی ٹانگ درست کرد و یا آنکھ درست کرد و یا مردہ زندہ کر دو۔ تو آنحضرت نے وہی کام کر دیا ہو اور نہ انجیل میں اس کی کوئی نظیر ملے گی کہ کفار نشان مانگنے آئے اور انہیں دکھایا گیا بلکہ ایک دفعہ خود صحابہ رضی اللہ عنہم نے