تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 294

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۴ سورة طه ایک خفیف خطا جیسا کہ آیت کریمہ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا سے ظاہر ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ آدم نے عمداً میرے حکم کو نہیں توڑا بلکہ اس کو یہ خیال گزرا کہ حوا نے جو یہ پھل کھایا اور مجھے دیا شاید اس کو خدا کی اجازت ہوگی جو اس نے ایسا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ خدا نے اپنی کتاب میں حوا کی بریت ظاہر نہیں فرمائی مگر آدم کی بریت ظاہر کی یعنی اس کی نسبت لَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً فرمایا اور حوا کو سز اسخت دی مرد کا محکوم بنایا اور اس کا دست نگر کر دیا اور حمل کی مصیبت اور بچے جننے کا دکھ اس کو لگا دیا اور آدم چونکہ خدا کی صورت پر بنایا گیا تھاس لئے شیطان اس کے سامنے نہ آسکا۔ اسی جگہ سے یہ بات نکلتی ہے کہ جس شخص کی پیدائش میں نر کا حصہ نہیں وہ کمزور ہے اور توریت کے رو سے اس کی نسبت کہنا مشکل ہے کہ وہ خدا کی صورت پر یا خدا کی مانند پیدا کیا گیا۔ ہاں آدم بھی ضرور مر گیا لیکن یہ موت گناہ سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ مرنا ابتدا سے انسانی بناوٹ کا خاصہ تھا اگر گناہ نہ کرتا تب بھی مرتا۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۷۳ حاشیه در حاشیه ) فَأَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَواتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفْنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ وَعَطَى آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَى ۔ عطی سے عمد تو نہیں پایا جاتا کیونکہ دوسری جگہ خود خدا تعالیٰ فرماتا ہے: فَنَسِيَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا (طه : ١١٦) عطی سے یاد آیا میرا ایک فقرہ ہے : الْعَصَا عِلاجُ مَنْ عَطی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جلالی تجلیات ہی سے انسان گناہ سے بچ سکتا ہے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۴۵ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۱ صفحه ۲) دل کے خیالات پر مواخذہ نہیں ہوتا جب تک کہ انسان عزم نہ کرلے۔ ایک چورا گر بازار میں جاتا ہوا ایک صرف کی دوکان پر روپوں کا ڈھیر دیکھے اور اسے خیال آوے کاش کہ میرے پاس بھی اس قدر روپیہ ہو اور پھر اسے چرانے کا ارادہ کرے مگر قلب اسے لعنت کرے اور باز رہے تو گنہگار نہ ہوگا اور اگر وہ پختہ ارادہ کرے کہ اگر موقع ملا تو ضرور چرالوں گا تو گنہگار ہوگا ۔ آدم کے قصہ میں بھی خدا فرماتا ہے وَ لَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْما یعنی ہم نے اس کی عزیمت نہیں پائی ۔ عَطَى آدم کے معنے ہیں کہ صورت عصیان کی ہے مثلاً آقا ایک غلام کو کہے کہ فلاں رستہ جا کر فلاں کام کر آؤ تو وہ اگر اجتہاد کرے اور دوسرے راہ سے جاوے تو عصیان تو ضرور ہے لیکن وہ لیکن وہ نافرمان نہ ہو گا صرف اجتہادی غلطی ہو گی جس پر مواخذہ نہیں نہیں۔ البدر جلد ا نمبر ۳ مورخه ۱۴ نومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۱۹،۱۸)