تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 291
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۱ سورة طه کے کفر اور بے دینی کے ان کی دعا میں مَا دُعَوُا الْكَفِرِينَ إِلَّا فِي ضَيْلِ (المؤمن : ۵۱) کی مصداق ہوگئی ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ تو سب کا ایک ہی ہے مگر ان لوگوں نے اس کی صفات کو سمجھا ہی نہیں ہے پس یا د رکھو کہ ہمارا خدا ناطق خدا ہے وہ ہماری دعا ئیں سنتا ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ (۲) قَالَ فَاذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ فِي الْحَيُوةِ أَنْ تَقُولَ لَا مِسَاسَ وَ إِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهُ وَانْظُرُ إِلَى الهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَالِفًا لَنُحَرِّقَنَّهُ ثُمَّ لَنَفْسِفَنَّهُ فِي الْيَمِّ نَسْفَان اگر چہ یہ سچ ہے کہ بعض جگہ قرآن کریم کے مضارعات پر جب نونِ ثقیلہ ملا ہے تو وہ ا تو وہ استقبال کے معنوں پر مستعمل ہوئے ہیں لیکن بعض جگہ ایسی بھی ہیں کہ حال کے معنے قائم رہے ہیں یا حال اور استقبال بلکہ ماضی بھی اشترا کی طور پر ایک سلسلہ متصلہ ممتدہ کی طرح مراد لئے گئے ہیں یعنی ایسا سلسلہ جو حال یا ماضی سے شروع ہوا اور استقبال کی انتہا تک بلا انقطاع برابر چلا گیا۔ پہلی آیات کی نظیر یہ ہے کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے ۔۔۔ وَ انْظُرُ إِلَى إِلَهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَالِفًا الخ یعنی اپنے معبود کی طرف دیکھ جس پر تو مختلف تھا کہ اب ہم اس کو جلاتے ہیں ۔ اس جگہ بھی استقبال مراد نہیں کیونکہ استقبال اور حال میں کسی قدر بعد زمان کا ہونا شرط ہے مثلاً اگر کوئی کسی کو یہ کہے کہ میں تجھے دس روپیہ دیتا ہوں سولے مجھ سے دس روپیہ۔ تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوگا کہ اس نے استقبال کا وعدہ کیا ہے بلکہ یہ کہا جائے گا کہ یہ سب کارروائی حال میں ہی ہوئی۔ (الحق مباحثہ دہلی ،روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۲ ، ۱۶۳) فَتَعْلَى اللهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُهُ وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا دعا کر کہ خدایا مجھے مراتب علمیہ میں ترقی بخش ۔ ( براہینِ احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۰۱) اے میرے رب تو مجھے اپنی عظمت اور معرفت شیون اور صفات کا علم کامل بخش اور پھر دوسری جگہ فرمایا وَ بِذلِكَ أُمِرْتُ وَ أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام : ۱۴ ۔ ان دونوں آیتوں کے ملانے سے معلوم ہوا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو اول المسلمین ٹھہرے تو اس کا یہی باعث ہوا کہ اوروں کی نسبت علوم معرفت