تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 289
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۹ سورة طه شخص اپنے رب کے پاس محرم ہو کر آئے گا اس کے لئے بہم ہے وہ اس بہم میں نہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا اور خود انسان جب کہ اپنے نفس میں غور کرے کہ کیوں کر اس کی روح پر بیداری اور خواب میں تغیرات آتے رہتے ہیں تو بالضرور اس کو ماننا پڑتا ہے کہ جسم کی طرح روح بھی تغیر پذیر ہے اور موت صرف تغییر اور سلب صفات کا نام ہے ورنہ جسم کے تغیر کے بعد بھی جسم کی مٹی تو بدستور رہتی ہے لیکن اس تغییر کی وجہ سے جسم پرموت کا لفظ اطلاق کیا جاتا ہے۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۶۵، ۱۶۶) جو شخص خدا کے پاس مجرم ہو کر آئے گا اس کی سزا جہنم ہے نہ اس میں وہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا سواس جگہ خدا نے مُجْرِما کہا مُذْنِبًا نہیں کہا کیونکہ بعض صورتوں میں معصوم کو بھی مذنب کہہ سکتے ہیں مگر مجرم نہیں کہہ سکتے ۔ ریویو آف ریلیجنز جلد نمبر ۵ صفحه (۱۹۰) جو شخص مجرم بن کر آوے گا اس کے لئے ایک جہنم ہے جس میں نہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔ یہ کیسی صاف بات ہے۔ اصل لذت زندگی کی راحت اور خوشی ہی میں ہے بلکہ اسی حالت میں وہ زندہ متصور ہوتا ہے جبکہ ہر طرح کے امن اور آرام میں ہو۔ اگر وہ کسی درد مثلاً قولنج یا درد دانت ہی میں مبتلا ہو جاوے تو وہ مردوں سے بدتر ہوتا ہے اور حالت ایسی ہوتی ہے کہ نہ تو مردہ ہی ہوتا ہے اور نہ زندہ ہی کہلا سکتا ہے۔ پس اسی پر قیاس کرلو کہ جہنم کے درد ناک عذاب میں کیسی بری حالت ہوگی ۔ مجرم وہ ہے جو اپنی زندگی میں خدائے تعالیٰ سے اپنا تعلق کاٹ لیوے۔ اس کو تو حکم تھا کہ وہ خدائے تعالیٰ کے لئے ہو جاتا۔ اور صادقوں کے ساتھ ہو جاتا مگر وہ ہوا و ہوس کا بندہ بن کر رہا اور شریروں اور دشمنانِ خدا و رسول سے موافقت کرتا رہا۔ گویا اس نے اپنے طرز عمل سے دکھا دیا کہ خدائے تعالیٰ سے قطع کر لی ہے۔ رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۶۱،۱۶۰) خدا تعالیٰ سے جب انسان جدائی لے کر جاتا ہے تو اس کے تمثلات دوزخ ہوتے ہیں خدا تعالیٰ کے کلام میں کذب نہیں ہے مَنْ يَأْتِ رَبَّۂ مُجْرِما ۔ سچ فرمایا ہے جب انسان عذاب اور درد میں مبتلا ہے اگر چہ وہ زندہ ہے لیکن مردوں سے بھی بدتر ہے وہ زندگی جو مرنے کے بعد انسان کو ملتی ہے وہ صلاح اور تقویٰ کے بدوں نہیں مل سکتی ۔ جس کو تپ چڑھی ہوئی ہے اسے کیوں کر زندہ کہہ سکتے ہیں۔ سخت تپ میں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ رات ہے یا دن ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۷ مورخہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۱) دیکھو انسان پر جب کوئی جرم ثابت ہو جائے تو وہ قابل سز اٹھہر جاتا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ الایة یعنی جو اپنے رب کے حضور مجرم ہو کر آتا ہے اس کی سزا جہنم ہے۔