تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 283
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۳ سورة طه کو کام لینا پڑے گا اسی طرح ان نفوس میں جن کی نسبت خدا تعالیٰ کے ازلی علم میں یہ ہے کہ ان سے امامت کا کام لیا جاوے گا منصب امامت کے مناسب حال کئی روحانی ملکے پہلے سے رکھے جاتے ہیں اور جن لیاقتوں کی آئندہ ضرورت پڑے گی ان تمام لیاقتوں کا بیج ان کی پاک سرشت میں بویا جاتا ہے۔ (ضرورت الامام، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۷۸) اس عطا میں زیادہ تر دو قسم کے آدمی ہیں ایک بادشاہ، دوسرے مامور من اللہ یعنی پہلے خدا نے ان کو مامور بنا یا تم هدی یعنی پھر تبلیغ کے تمام سامان ان کے لئے مہیا کر دیئے ۔ جیسا کہ خدا نے ریل ، تار، ڈاک ، مطبع وغیرہ تمام اسباب ہمارے واسطے مہیا کر دیئے ۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۸ مورخه ۳ مارچ ۱۹۰۱ ء صفحه ۱۲) قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي فِي كِتٰبِ لَا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنْسَى وفات مسیح یا ایسے مسائل کے متعلق پہلے لوگ جو کچھ کہہ آئے ان کے متعلق ہم حضرت موسیٰ کی طرح یہی کہتے ہیں کہ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّی یعنی گذشتہ لوگوں کے حالات سے اللہ تعالیٰ بہتر واقف ہے ہاں حال کے لوگوں کو ہم نے کافی طور پر سمجھا دیا ہے اور حجت قائم کر دی ہے ۔ (الحکم جلد ۶ نمبر ۱۶ مورخه ۳۰ را پریل ۱۹۰۲ ء صفحه ۷) مِنْهَا خَلَقْنَكُمْ وَ فِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرى ۔ بعض نہایت سادگی سے کہتے ہیں کہ سلاطین کی کتاب میں جو لکھا ہے کہ ایلیا جسم کے سمیت آسمان پر اُٹھایا گیا تو پھر کیا مسیح ابن مریم کے اُٹھائے جانے میں کچھ جائے اشکال ہے تو اُن کو واضح ہو کہ در حقیقت ایلیا بھی خاکی جسم کے ساتھ نہیں اُٹھایا گیا تھا۔ چنانچہ مسیح نے اس کی وفات کی طرف اشارہ کر دیا جبکہ اس نے یہودیوں کی وہ امید توڑ دی جو وہ اپنی خام خیالی سے باندھے ہوئے تھے اور کہہ دیا کہ وہ ہرگز نہیں آئے گا۔ اور ظاہر ہے کہ اگر وہ جسم خاکی کے ساتھ اُٹھایا جاتا تو پھر خاک کی طرف اس کا رجوع کرنا ضروری تھا کیونکہ لکھا ہے کہ خا کی جسم خاک کی طرف ہی عود کرتا ہے مِنْهَا خَلَقْنَكُمْ وَ فِيهَا نُعِيدُكُمْ کیا ایلیا آسمان پر ہی فوت ہوگا یا كُل مَنْ عَلَيْهَا فَانِ (الرحمن : (۲۷) سے باہر رہے گا۔ اگر سوچ کر دیکھو تو ایلیا کی چادر گرنے والی وہی اس کا وجود تھا جو اس نے چھوڑ دیا اور نیا چولہ پہن لیا۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۱۲، ۵۱۳)