تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 266 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 266

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۶ سورة مريم کر معراج کی رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو آسمانوں میں دیکھا اور اگر اُٹھائے گئے تھے تو پھر ناحق مسیح ابن مریم کی رفع کے کیوں اور طور پر معنے کئے جاتے ہیں۔ تعجب کہ توفی کا لفظ جو صریح وفات پر دلالت کرتا ہے۔ جا بجا ان کے حق میں موجود ہے اور اٹھائے جانے کا نمونہ بھی بدیہی طور پر کھلا ہے کیونکہ وہ انہیں فوت شدہ لوگوں میں جاملے جو ان سے پہلے اُٹھائے گئے تھے اور اگر کہو کہ وہ لوگ اٹھائے نہیں گئے تو میں کہتا ہوں کہ وہ پھر آسمان میں کیوں کر پہنچ گئے آخر اٹھائے گئے تبھی تو آسمان میں پہنچے۔ کیا تم قرآن شریف میں یہ آیت نہیں پڑھتے وَ رَفَعْتُهُ مَكَانًا عَلِيًّا کیا یہ وہی رفع نہیں ہے جو مسیح کے بارہ میں آیا ہے؟ کیا اس کے اُٹھائے جانے کے معنی نہیں ہیں فانی تُصْرَفُونَ (یونس : ۳۳)۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۸) قرآن شریف میں ہر ایک جگہ رفع سے مراد رفع روحانی ہے۔ بعض نادان کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں یہ آیت بھی ہے کہ رفعتهُ مَكَانًا عَلِيًّا اور اس پر خود تراشیدہ قصہ بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص ادر یس تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے معہ جسم آسمان پر اٹھا لیا تھا۔ لیکن یادر ہے کہ یہ قصہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصے کی طرح ہمارے کم فہم علماء کی غلطی ہے اور اصل حال یہ ہے کہ اس جگہ بھی رفع روحانی ہی مراد ہے۔ تمام مومنوں اور رسولوں اور نبیوں کا مرنے کے بعد رفع روحانی ہوتا ہے اور کافر کا رفع روحانی نہیں ہوتا۔ چنانچہ آیت لَا تُفَتَّحُ لَهُم اَبْوَابُ السَّمَاءِ (الاعراف : ۴۱) کا اسی کی طرف اشارہ ہے۔ اور اگر حضرت اور لیس معہ جسم عنصری آسمان پر گئے ہوتے تو بموجب نص صریح آیت فِيهَا تَحْيَوْنَ (الاعراف : ۲۶) جیسا کہ حضرت مسیح کا آسمانوں پر سکونت اختیار کر لینا ممتنع تھا ایسا ہی ان کا بھی آسمان پر ٹھہر نا ممتنع ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ اس آیت میں قطعی فیصلہ دے چکا ہے کہ کوئی شخص آسمان پر زندگی بسر نہیں کر سکتا بلکہ تمام انسانوں کے لئے زندہ رہنے کی جگہ زمین ہے۔ علاوہ اس کے اس آیت کے دوسرے فقرہ میں جو فِيهَا تَمُوتُونَ (الاعراف : ۲۶) ہے یعنی زمین پر ہی مرو گے صاف فرمایا گیا ہے کہ ہر ایک شخص کی موت زمین پر ہوگی ۔ پس اس سے ہمارے مخالفوں کو یہ عقیدہ رکھنا بھی لازم آیا کہ کسی وقت حضرت ادریس بھی آسمان پر سے نازل ہوں گے۔ حالانکہ دنیا میں یہ کسی کا عقیدہ نہیں اور طرفہ یہ کہ زمین پر حضرت ادریس کی قبر بھی موجود ہے جیسا کہ حضرت عیسیٰ کی قبر موجود ہے۔ (کتاب البریه، وحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۳۷، ۲۳۸ حاشیہ )