تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 264
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۴ سورة مريم مَا كَانَ لِلَّهِ أَنْ يَتَّخِذَ مِنْ وَلَدٍ سُبْحَنَهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ برود و فيكون خدا اپنی ذات میں کامل ہے اس کو کچھ حاجت نہیں کہ بیٹا بناوے۔ کون سی کسر اس کی ذات میں رہ گئی تھی جو بیٹے کے وجود سے پوری ہو گئی اور اگر کوئی کسر نہیں تھی تو پھر کیا بیٹا بنانے میں خدا ایک فضول حرکت کرتا جس کی اس کو کچھ ضرورت نہ تھی وہ تو ہر یک عبث کام اور ہر یک حالت نا تمام سے پاک ہے۔ جب کسی بار کسی بات کو کہتا ہے: ہو۔ تو ہو جاتی ہے۔ (براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۴ حاشیه در حاشیه نمبر (۳) وَ رَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيَّان (۵۸) قرآن شریف میں ادریس نبی کے حق میں ہے وَ رَفَعْتُهُ مَكَانًا عَلِيًّا اور اس کے ساتھ تو فی کا کہیں لفظ نہیں تاہم علماء ادریس کی وفات کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اس جہان سے ایسا اٹھایا گیا کہ پھر نہیں آئے گا یعنی مر گیا کیونکہ بغیر مرنے کے کوئی اس جہان سے ہمیشہ کے لئے رخصت نہیں ہو سکتا وجہ یہ کہ اس دنیا سے نکلنے اور بہشت میں داخل ہونے کا موت ہی دروازہ ہے كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (آل عمران : ۱۸۶) ۔ اور اگر انہیں کہا جائے کہ کیا اور لیس آسمان پر مر گیا یا پھر آ کر مرے گا یا آسمان پر ہی اس کی روح قبض کی جائے گی تو ادریس کے دوبارہ دنیا میں آنے سے صاف انکار کرتے ہیں ۔ اور چونکہ دخول جنت سے پہلے موت ایک لازمی امر ہے لہذا ادریس کا فوت ہو جانا مان لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رفع کے اس جگہ معنے موت ہی ہیں ۔ پھر جبکہ مسیح کے رفع کے ساتھ تو فی کا لفظ بھی موجود ہے تو کیوں اور کس دلیل سے اس کی حیات کے لئے ایک شور قیامت برپا کر دیا ہے۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۹۶) یہ آیت حضرت ادریس کے حق میں ہے اور کچھ شک نہیں کہ اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ ہم نے ادریس کو موت دے کر مکان بلند میں پہنچا دیا کیونکہ اگر وہ بغیر موت کے آسمان پر چڑھ گئے تو پھر بوجہ ضرورت موت جو ایک انسان کے لئے ایک لازمی امر ہے یہ تجویز کرنا پڑے گا کہ یا تو وہ کسی وقت او پر ہی فوت ہو جائیں اور یا زمین پر آکر فوت ہوں مگر یہ دونوں شق ممتنع ہیں کیونکہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ جسم خاکی موت کے بعد پھر خاک ہی میں داخل کیا جاتا ہے اور خاک ہی کی طرف عود کرتا ہے اور خاک ہی