تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 257
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۲۵۷ سورة مريم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة مريم بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ يزَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَمِ إِسْهُ يَحْيَى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَيًّا قرآن شریف اپنے زبردست ثبوتوں کے ساتھ ہمارے دعوے کا مصدق اور ہمارے مخالفین کے اوہام باطلہ کی بیخ کنی کر رہا ہے اور وہ گذشتہ نبیوں کے واپس دنیا میں آنے کا دروازہ بند کرتا ہے اور بنی اسرائیل کے مثیلوں کے آنے کا دروازہ کھولتا ہے ۔ اس نے یہ دعا تعلیم فرمائی ہے: اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحة : ۶، ۷ ) اس دعا کا ما حصل کیا ہے؟ یہی تو ہے کہ ہمیں اے ہمارے خدا نبیوں اور رسولوں کا مثیل بنا۔ اور پھر حضرت یحییٰ کے حق میں فرماتا ہے : لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَبِيًّا یعنی یحی سے پہلے ہم نے کوئی اس کا مثیل دنیا میں نہیں بھیجا جس کو باعتبار ان صفات کے بھی کہا جائے۔ یہ آیت ہماری تصدیق بیان کے لئے اشارة النص ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس جگہ آیت موصوفہ میں قبل کی شرط لگائی بعد کی نہیں لگائی تا معلوم ہو کہ بعد میں اسرائیلی نبیوں کے ہم ناموں کے آنے کا دروازہ کھلا ہے جن کا نام خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی ہوگا جو ان نبیوں کا نام ہوگا جن کے وہ مثیل ہیں یعنی جو مثیل موسی ہے اس کا نام موسیٰ ہوگا اور جو مثیل عیسی ہے اس کا نام عیسی یا ابنِ مریم ہوگا اور خدا تعالیٰ نے اس آیت میں سیمی کہا مثیل نہیں کہا تا معلوم کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ جو شخص کسی اسرائیلی نبی کا مثیل بن کر آئے گا وہ مثیل کے نام