تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 251

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۱ سورة الكهف اب نکلی ہیں پہلے اُن کا کہاں وجود تھا۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ ایسے حقائق دقائق قرآنی کا نمونہ کہاں ہے جو پہلے دریافت نہیں کئے گئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس رسالہ کے آخر میں جو سورہ فاتحہ کی تفسیر ہے اس کے پڑھنے سے تمہیں معلوم ہوگا کہ اس قسم کے حقائق اور معارف مخفیہ قرآن کریم میں موجود ہیں جو ہر یک زمانہ میں اُس زمانہ کی ضرورتوں کے موافق ہیں ۔ (کرامات الصادقین ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۶۰ تا ۶۲ ) قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا الهُكُمُ الهُ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَ لَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةَ أَحَدًا قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا الهُكُمُ الهُ وَاحِدٌ کہہ میں ایک آدمی ہوں تم جیسا مجھے خدا سے الہام ہوتا ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے۔ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحه ۵۷) ان کو کہہ دے کہ میں تمہارے جیسا ایک آدمی ہوں مجھ پر یہ وحی ہوتی ہے کہ خدا ایک ہے اس کا کوئی ثانی نہیں۔ ( دافع البلاء، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۳۹) فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّه الخ جو شخص خدا کی ملاقات کا طالب ہے اسے لازم ہے کہ ایسا عمل اختیار کرے جس میں کسی نوع کا فساد نہ ہو اور کسی چیز کو خدا کی بندگی میں شریک نہ کرے۔ (براہین احمد یہ چہار تخصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۳۹ حاشیه در حاشیه نمبر (۳) جو شخص خدا تعالیٰ کا دیدار چاہتا ہے چاہیے کہ وہ ایسے کام کرے جن میں فساد نہ ہو یعنی ایک ذرہ متابعت نفس اور ہوا کی نہ ہو اور چاہیے کہ خدا کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک نہ کرے نہ نفس کو نہ ہوا کو اور نہ دوسرے باطل معبودوں کو ۔ ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۳۰) وہ قرآن شریف میں اس تعلیم کو پیش کرتا ہے جس کے ذریعہ سے اور جس پر عمل کرنے سے اسی دنیا میں دیدار الہی میسر آ سکتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے مَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةَ أَحَدًا - یعنی جو شخص چاہتا ہے کہ اسی دنیا میں اس خدا کا دیدار نصیب ہو جائے جو حقیقی خدا اور پیدا کنندہ ہے پس چاہئے کہ وہ ایسے نیک عمل کرے جن میں کسی قسم کا فساد نہ ہو یعنی عمل اس کے نہ لوگوں کے دکھلانے کے لئے ہوں نہ اُن کی وجہ سے دل میں تکبر پیدا ہو کہ میں ایسا ہوں اور ایسا ہوں اور نہ وہ عمل ناقص اور نا تمام ہوں اور نہ اُن میں کوئی ایسی بد بو ہو جو محبت ذاتی کے برخلاف ہو بلکہ چاہئے کہ صدق اور وفاداری