تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 248
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۸ سورة الكهف قولی میں کچھ کمی نہ ہو۔ گو ویسے ہی اور سمندر بطور مدد کے کام میں لائے جائیں۔ رہی یہ بات کہ ہم لوگ ختم ہونا وحی کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کن معنوں سے مانتے ہیں۔ سو اس میں اصل حقیقت یہ ہے کہ گو کلام الہی اپنی ذات میں غیر محدود ہے۔ لیکن چونکہ وہ مفاسد کہ جن کی اصلاح کے لئے کلام الہی نازل ہوتی رہی یا وہ ضرورتیں کہ جن کو الہام ربانی پورا کرتا رہا ہے۔ وہ قدر محدود سے زیادہ نہیں ہیں ۔ اس لئے کلام الہی بھی اسی قدر نازل ہوئی ہے کہ جس قدر بنی آدم کو اس کی ضرورت تھی ۔ اور قرآن شریف ایسے زمانہ میں آیا تھا کہ جس میں ہر ایک طرح کی ضرورتیں کہ جن کا پیش آنا ممکن ہے پیش آ گئی تھیں یعنی تمام امور اخلاقی اور اعتقادی اور اور فعلی بگڑ گئے تھے اور ہر ایک قسم کا افراط تفریط اور ہر ایک نوع کا فسادا اپنے انتہاء کو پہنچ گیا تھا۔ اس لئے قرآن شریف کی تعلیم بھی انتہائی درجہ پر نازل ہو بم بھی انتہائی درجہ پر نازل ہوئی۔ پس انہیں معنوں سے شریعت فرقانی مختتم اور مکمل ٹھہری اور پہلی شریعتیں ناقص رہیں کیونکہ پہلے زمانوں میں وہ مفاسد کہ جن کی اصلاح کے لئے الہامی کتابیں آئیں وہ بھی انتہائی درجہ پر نہیں پہنچے تھے اور قرآن شریف کے وقت میں وہ سب اپنی انتہا کو پہنچ گئے تھے۔ بس اب قرآن شریف اور دوسری الہامی کتابوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی کتابیں اگر ہر ایک طرح کے خلل سے محفوظ بھی رہتیں۔ پھر بھی بوجہ ناقص ہونے تعلیم کے ضرور تھا کہ کسی وقت کامل تعلیم یعنی فرقان مجید ظہور پذیر ہوتا ۔ مگر قرآن شریف کے لئے اب یہ ضرورت در پیش نہیں کہ اس کے بعد کوئی اور کتاب بھی آوے۔ کیونکہ کمال کے بعد اور کوئی درجہ باقی نہیں۔ ہاں اگر یہ فرض کیا جائے کہ کسی وقت اصول حقہ قرآن شریف کے وید اور انجیل کی طرح مشرکانہ اصول بنائے جائیں گے اور تعلیم توحید میں تبدیل اور تحریف عمل میں آوے گی ۔ یا اگر ساتھ اس کے یہ بھی فرض کیا جائے ۔ جو کسی زمانہ میں وہ کروڑ ہا مسلمان جو توحید پر قائم ہیں وہ بھی پھر طریق شرک اور مخلوق پرستی کا اختیار کر لیں گے۔ تو بے شک ایسی صورتوں میں دوسری شریعت اور دوسرے رسول کا آنا ضروری ہوگا ۔ مگر دونوں قسم کے فرض محال ہیں قرآن شریف کی تعلیم کا محرف مبدل ہونا اس لئے محال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ ( الحجر : ١٠) باوانا تک صاحب فرماتے ہیں ۔ (براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۱۰۱، ۱۰۲ حاشیہ نمبر ۹) تیرا حکم نہ جانے کتیرا لکھ نہ جانے کو جے سو شاعر میلئے تل نہ پوجاوے ہو یعنی تیرے حکم کی تعداد کسی کو معلوم نہیں اگر سوشا عر جمع کریں تو ایک تل بھر بھی پورا نہ کر سکیں ۔