تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 246
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۶ سورة الكهف استعدادوں کو جنبش دینے کے لئے کچھ آسمانی کارروائی ظہور میں آئے گی اور ہولناک نشان ظاہر ہوں گے تب سعید لوگ جاگ اٹھیں گے کہ یہ کیا ہوا چاہتا ہے کیا یہ وہی زمانہ نہیں جو قریب قیامت ہے جس کی نبیوں نے خبر دی ہے۔ اور کیا یہ وہی انسان نہیں جس کی نسبت اطلاع دی گئی تھی کہ اس امت میں سے وہ مسیح ہو کر آئے گا جو عیسی بن مریم کہلائے گا تب جس کے دل میں ایک ذرا بھی سعادت اور رشد کا مادہ ہے خدا تعالیٰ کے غضبناک نشانوں کو دیکھ کر ڈرے گا اور طاقت بالا اس کو کھینچ کر حق کی طرف لے آئے گی اور اُس کے تمام تعصب اور کینے یوں جل جائیں گے جیسا کہ ایک خشک تنکا بھڑکتی ہوئی آگ میں پڑ کر بھسم ہو جاتا ہے غرض اُس وقت ہر ایک رشید خدا کی آواز سن لے گا۔ اور اس کی طرف کھینچا جائے گا اور دیکھ لے گا کہ اب زمین اور آسمان دوسرے رنگ میں ہیں نہ وہ زمین ہے اور نہ وہ آسمان ۔ جیسا کہ مجھے پہلے اس سے ایک کشفی رنگ میں دکھلایا گیا تھا کہ میں نے ایک نئی زمین اور نیا آسمان بنایا ایسا ہی عنقریب ہونے والا ہے اور کشفی رنگ میں یہ بنانا میری طرف منسوب کیا گیا کیونکہ خدا نے اس زمانہ کے لئے مجھے بھیجا ہے۔ لہذا اس نئے آسمان اور نئی زمین کا میں ہی موجب ہوا اور ایسے استعارات خدا کی کلام میں بہت ہیں ۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۰۹،۱۰۸) وَنُفِخَ فِي فِي الصُّورِ فَجَمَعْتُهُمْ جَمْعًا اس سے بھی مسیح موعود کی دعاؤں کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔ نزول از آسمان کے یہی معنی ہیں کہ جب کوئی امر آسمان سے پیدا ہوتا ہے تو کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اسے رد نہیں کر سکتا آخری زمانہ میں شیطان کی ذریت بہت جمع ہو جائے گی کیونکہ وہ شیطان کا آخری جنگ ہے مگر مسیح موعود کی دعائیں اس کو ہلاک کر دیں گی ۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۶ مورخہ ۷ ارفروری ۱۹۰۴ء صفحه ۵) اَفَحَسِبَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ يَتَّخِذُوا عِبَادِى مِنْ دُونِي أَوْلِيَاءَ إِنَّا أَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَفِرِينَ نُزُلًا کیا ان منکروں نے یہ گمان کیا تھا کہ یہ امر سہل ہے کہ عاجز بندوں کو خدا بنا دیا جائے اور میں معطل ہو جاؤں اس لئے ہم ان کی ضیافت کے لئے اسی دنیا میں جہنم کو نمودار کر دیں گے یعنی بڑے بڑے ہولناک نشان ظاہر ہوں گے۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۲۶)