تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 240 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 240

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الد ۔ سورة الكهف جاتے ہیں جیسا کہ آیت فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِب ( الصفت : (۱۱) سے ظاہر ہوتا ہے تو کیا وہ سد سکندری کے اوپر چڑھ نہیں سکتے تھے جو آسمان کے قریب چلے جاتے ہیں اور اگر کہو کہ وہ درندوں کی قسم ہیں جو عقل و فہم نہیں رکھتے تو پھر قرآن شریف اور حدیثوں میں ان پر عذاب نازل کرنے کا کیوں وعدہ ہے کیونکہ عذاب گنہ کی پاداش میں ہوتا ہے اور نیز ان کا لڑائیاں کرنا اور سب پر غالب ہو جانا اور آخر کار آسمان کی طرف تیر چلانا صاف دلالت کرتا ہے کہ وہ ذوالعقول ہیں بلکہ دنیا کی عقل میں سب سے بڑھ کر۔ حدیثوں میں بظاہر یہ تناقض پایا جاتا ہے کہ مسیح موعود کے مبعوث ہونے کے وقت ایک طرف تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ یا جوج ماجوج تمام دنیا میں پھیل جائیں گے اور دوسری طرف یہ بیان ہے کہ تمام دنیا میں عیسائی قوم کا غلبہ ہوگا جیسا کہ حدیث يَكْسِرُ الصَّليب سے بھی سمجھا جاتا ہے کہ صلیبی قوم کا اس زمانہ میں بڑا عروج اور اقبال ہوگا ۔ ایسا ہی ایک دوسری حدیث سے بھی یہی سمجھا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ اس زمانہ میں رومیوں کی کثرت اور قوت ہو گی یعنی عیسائیوں کی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں رومی سلطنت عیسائی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ بھی قرآن شریف میں فرماتا ہے غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ (الروم : ۳، ۴) اس جگہ بھی روم سے مراد عیسائی سلطنت ہے اور پھر بعض احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت دجال کا تمام زمین پر غلبہ ہوگا اور تمام زمین پر بغیر مکہ معظمہ کے دجال محیط ہو جائے گا۔ اب کوئی مولوی مولوی صاحب بتلاویں کہ یہ تناقض کیوں کر دور ہو سکتا ہے اگر دجال تمام زمین پر محیط ہو جائے گا تو عیسائی سلطنت کہاں ہوگی ۔ ایسا ہی یا جوج ماجوج جن کی عام سلطنت کی قرآن شریف خبر دیتا ہے وہ کہاں جائیں گے۔ سو یہ غلطیاں ہیں جن میں یہ لوگ مبتلا ہیں جو ہمارے مکفر اور مکتب ہیں۔ واقعات ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ دونوں صفات یا جوج ماجوج اور دجال ہونے کی یورپین قوموں میں موجود ہیں کیونکہ یا جوج ماجوج کی تعریف حدیثوں میں یہ بیان کی گئی ہے کہ ان کے ساتھ لڑائی میں کسی کو طاقت مقابلہ نہیں ہوگی اور مسیح موعود بھی صرف دعا سے کام لے گا اور یہ صفت کھلے کھلے طور پر یورپ کی سلطنتوں میں پائی جاتی ہے اور قرآن شریف بھی اس کا مصدق ہے ۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ ( الانبياء : ٩٧) اور دجال کی نسبت حدیثوں میں یہ بیان ہے کہ وہ دجل سے کام لے گا اور مذہبی رنگ میں دنیا میں فتنہ ڈالے گا۔ سوقرآن شریف میں یہ صفت عیسائی پادریوں کی بیان کی گئی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ