تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 237
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۷ سورة الكهف علیحدہ دنیا کی طرح ہو گیا تو ایسی صورت میں کیا ضرور نہ تھا کہ خدا تعالیٰ ہر ایک ملک کے لئے الگ الگ نبی اور رسول بھیجتا اور کسی ایک کتاب پر کفایت نہ رکھتا۔ ہاں جب دنیا نے پھر اتحاد اور اجتماع کے لئے پلٹا کھایا اور ایک ملک کو دوسرے ملک سے ملاقات کرنے کے لئے سامان پیدا ہو گئے اور باہمی تعارف کے لئے انواع و اقسام کے ذرائع اور وسائل نکل آئے ۔ تب وہ وقت آگیا کہ قومی تفرقہ درمیان سے اٹھا دیا جائے اور ایک کتاب کے ماتحت سب کو کیا جائے تب خدا نے سب دُنیا کے لئے ایک ہی نبی بھیجا تا وہ سب قوموں کو ایک ہی مذہب پر جمع کرے اور تا وہ جیسا کہ ابتداء میں ایک قوم تھی آخر میں بھی ایک ہی قوم بناوے۔ اور یہ ہمارا بیان جیسا کہ واقعات کے موافق ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ کے اس قانون قدرت کے موافق ہے جو زمین و آسمان میں پایا جاتا ہے کیونکہ اگر چہ اُس نے زمین کو الگ تاثیرات بخشی ہیں اور چاند کو الگ اور ہر ایک ستارہ میں جدا جدا قو تیں رکھی ہیں مگر پھر بھی باوجود اس تفرقہ کے سب کو ایک ہی نظام میں داخل کر دیا ہے اور تمام نظام کا پیشر و آفتاب کو بنایا ہے جس نے ان تمام سیاروں کو انجن کی طرح اپنے پیچھے لگا لیا ہے پس اس سے غور کرنے والی طبیعت سمجھ سکتی ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ کی ذات میں وحدت ہے ایسا ہی وہ نوع انسان میں بھی جو ہمیشہ کی بندگی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وحدت کو ہی چاہتا ہے اور درمیانی تفرقہ قوموں کا جو باعث کثرت نسل انسان نوع انسان میں پیدا ہوا وہ بھی دراصل کامل وحدت پیدا کرنے کے لئے ایک تمہید تھی کیونکہ خدا نے یہی چاہا کہ پہلے نوع انسان میں وحدت کے مختلف حصے قائم کر کے پھر ایک کامل وحدت کے دائرہ کے اندر سب کو لے آوے سو خدا نے قوموں کے جدا جدا گر وہ مقرر کئے اور ہر ایک قوم میں ایک وحدت پیدا کی اور اس میں یہ حکمت تھی کہ تا قوموں کے تعارف میں سہولت اور آسانی پیدا ہو اور ان کے باہمی تعلقات پیدا ہونے میں کچھ دقت نہ ہو اور پھر جب قوموں کے چھوٹے چھوٹے حصوں میں تعارف ، پیدا ہو گیا تو پھر خدا نے چاہا کہ سب قوموں کو ایک قوم بناوے جیسے مثلاً ایک شخص باغ لگاتا ہے اور باغ کے مختلف بوٹوں کو مختلف تختوں پر تقسیم کرتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد تمام باغ کے ارد گرد دیوار کھینچ کر سب درختوں کو ایک ہی دائرہ کے اندر کر لیتا ہے اسی کی طرف قرآن شریف نے اشارہ فرمایا ہے اور وہ یہ آیت ہے ان هذه امَتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ (الانبياء : ۹۳) یعنی اے دنیا کے مختلف حصوں کے نبیو! یہ مسلمان جو مختلف قوموں میں سے اس دنیا میں اکٹھے ہوئے ہیں یہ تم سب کی ایک اُمت ہے جو سب پر ایمان لاتے ہیں اور میں تمہارا خدا ہوں سو تم سب مل کر میری ہی عبادت کرو۔ (دیکھو الجزونمبر ۱۷ سورۃ الانبیاء )