تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 213
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام له الله سورة الكهف لِلْكَفِرِينَ نُزُلًا، پھر ذوالقرنین یعنی مسیح موعود ایک اور سامان کے پیچھے پڑے گا۔ اور جب وہ ایک ایسے موقعہ پر پہنچے گا یعنی جب وہ ایک ایسا نازک زمانہ پائے گا جس کو بین السدین کہنا چاہیئے یعنی دو پہاڑوں کے بیچ مطلب یہ کہ ایسا وقت پائے گا جب کہ دو طرفہ خوف میں لوگ پڑے ہوں گے اور ضلالت کی طاقت حکومت کی طاقت کے ساتھ مل کر خوفناک نظارہ دکھائے گی تو ان دونوں طاقتوں کے ماتحت ایک قوم کو پائے گا جو اُس کی بات کو مشکل سے سمجھیں گے یعنی غلط خیالات میں مبتلا ہوں گے اور باعث غلط عقائد مشکل سے اُس ہدایت کو سمجھیں گے جو وہ پیش کرے گا لیکن آخر کار سمجھ لیں گے اور ہدایت پالیں گے اور یہ تیسری قوم ہے جو مسیح موعود کی ہدایات سے فیض یاب ہوں گے تب وہ اس کو کہیں گے کہ اے ذوالقرنین ! یا جوج اور ماجوج نے زمین پر فساد مچا رکھا ہے پس اگر آپ کی مرضی ہو تو ہم آپ کے لئے چندہ جمع کر دیں تا آپ ہم میں اور ان میں کوئی روک بنادیں۔ وہ جواب میں کہے گا کہ جس بات پر خدا نے مجھے قدرت بخشی ہے وہ تمہارے چندوں سے بہتر ہے ہاں اگر تم نے کچھ مدد کرنی ہو تو اپنی طاقت کے موافق کروتا میں تم میں اور ان میں ایک دیوار کھینچ دوں۔ یعنی ایسے طور پر ان پر حجت پوری کروں کہ وہ کوئی طعن تشنیع اور اعتراض کا تم پر حملہ نہ کر سکیں۔ لوہے کی سلیں مجھے لا دو تا آمد و رفت کی راہوں کو بند کیا جائے یعنی اپنے تئیں میری تعلیم اور دلائل پر مضبوطی سے قائم کرو اور پوری استقامت اختیار کرو اور اس طرح پر خود لوہے کی سیل بن کر مخالفانہ حملوں کو روکو اور پھر سلوں میں آگ پھونکو جب تک کہ وہ خود آگ بن جائیں ۔ یعنی محبت الہی اس قدر اپنے اندر بھڑکاؤ کہ خود الہی رنگ اختیار کرو۔ یا د رکھنا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ سے کمال محبت کی یہی علامت ہے کہ محب میں ظلی طور پر الہی صفات پیدا ہو جائیں۔ اور جب تک ایسا ظہور میں نہ آوے تب تک دعوی محبت جھوٹ ہے۔ محبت کاملہ کی مثال بعینہ لوہے کی وہ حالت ہے جب کہ وہ آگ میں ڈالا جائے اور اس قدر آگ اُس میں اثر کرے کہ وہ خود آگ بن جائے ۔ پس اگر چہ وہ اپنی اصلیت میں لوہا ہے آگ نہیں ہے مگر چونکہ آگ نہایت درجہ اس پر غلبہ کر گئی ہے اس لئے آگ کے صفات اُس سے ظاہر ہوتے ہیں ۔ وہ آگ کی طرح جلا سکتا ہے۔ آگ کی طرح اس میں روشنی ہے۔ پس محبت الہیہ کی حقیقت یہی ہے کہ انسان اس رنگ سے رنگین ہو جائے اور اگر اسلام اس حقیقت تک پہنچا نہ سکتا تو وہ کچھ چیز نہ تھا لیکن اسلام اس حقیقت تک پہنچاتا ہے ۔ اوّل انسان کو چاہیئے کہ لوہے کی طرح اپنی استقامت اور ایمانی مضبوطی میں بن جائے کیونکہ اگر ایمانی حالت خس و خاشاک کی طرح ہے تو آگ اُس کو چھوتے ہی بھسم کر دے گی ۔ پھر کیوں کر وہ آگ کا مظہر بن سکتا