تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 210
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۰ سورة الكهف ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف کی عبارت یہ ہے وَ يَسْتَلُونَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ قُلْ سَاتْلُوا عَلَيْكُمْ مِنْهُ ذِكْرًا یعنی یہ لوگ تجھ سے ذوالقرنین کا حال دریافت کرتے ہیں۔ ان کو کہو کہ میں ابھی تھوڑا سا تذکرہ ذوالقرنین کا تم کو سناؤں گا اور پھر بعد اس کے فرمایا إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ وَآتَيْنَهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا یعنی ہم اس کو یعنی مسیح موعود کو جوذ والقرنین بھی کہلائے گا روئے زمین پر ایسا مستحکم کریں گے کہ کوئی اس کو نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور ہم ہر طرح سے ساز و سامان اس کو دے دیں گے۔ اور اُس کی کارروائیوں کو سہل اور آسان کر دیں گے۔ یاد رہے کہ یہ وحی براہین احمدیہ حصص سابقہ میں بھی میری نسبت ہوئی ہے جیسا کہ اللہ فرماتا ہے اَلَمْ نَجْعَلْ لَكَ سَهُولَةً فِي كُلِّ اَمْرِ یعنی کیا ہم نے ہر ایک امر میں تیرے لئے آسانی نہیں کر دی۔ یعنی کیا ہم نے تمام وہ سامان تیرے لئے میسر نہیں کر دیئے جو تبلیغ اور اشاعت حق کے لئے ضروری تھے۔ جیسا کہ ظاہر ہے کہ اس نے میرے لئے وہ سامان تبلیغ اور اشاعت حق کے میسر کر دیئے جو کسی نبی کے وقت میں موجود نہ تھے۔ تمام قوموں کی آمد ورفت کی راہیں کھولی گئیں۔ طے مسافرت کے لئے وہ آسانیاں کر دی گئیں کہ برسوں کی راہیں دنوں میں طے ہونے لگیں اور خبر رسانی کے وہ ذریعے پیدا ہوئے کہ ہزاروں کوس کی خبریں چند منٹوں میں آنے لگیں۔ ہر ایک قوم کی وہ کتابیں شائع ہوئیں جو مخفی اور مستور تھیں ۔ اور ہر ایک چیز کے بہم پہنچانے کے لئے ایک سبب پیدا کیا گیا۔ کتابوں کے لکھنے میں جو جو دقتیں تھیں وہ چھا پہ خانوں سے دفع اور دور ہوگئیں یہاں تک کہ ایسی ایسی مشینیں نکلی ہیں کہ ان کے ذریعہ سے دس دن میں کسی مضمون کو اس کثرت سے چھاپ سکتے ہیں کہ پہلے زمانوں میں دس سال میں بھی وہ مضمون قید تحریر میں نہیں آسکتا تھا اور پھر ان کے شائع ن کرنے کے اس قدر حیرت انگیز سامان نکل آئے ہیں کہ ایک تحریر صرف چالیس دن میں تمام دنیا کی آبادی میں شائع ہو سکتی ہے اور اس زمانہ سے پہلے ایک شخص بشر طیکہ اس کی عمر بھی لمبی ہو سو برس تک بھی اس وسیع اشاعت پر قادر نہیں ہو سکتا تھا۔ پھر بعد اس کے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے فَاتْبَعَ سَبَبًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنِ حَمِئَةٍ وَوَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا ۚ قُلْنَا يَذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَنْ تُعَذِّبَ وَ إِمَّا أَنْ تَتَّخِذَ فِيهِمْ حُسْنًا قَالَ أَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَى رَبِّهِ فَيُعَذِّبُهُ عَذَابًا تُكْرًا وَ أَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاء الْحُسْنَى ، وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُسْرًا یعنی جب ذوالقرنین کو جو مسیح موعود ہے ہر ایک طرح کے سامان دیئے جائیں گے۔ پس وہ ایک سامان کے پیچھے پڑے گا ۔ یعنی وہ مغربی ممالک کی اصلاح کے لئے کمر باندھے گا اور وہ دیکھے گا کہ آفتاب صداقت اور