تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 207 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 207

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۷ سورة الكهف وَ أَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَمَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا وَ كَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا فَاَرَادَ رَبُّكَ أَنْ يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَ يَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا رَحْمَةً مِّنْ رَبِّكَ وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِى ذَلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِعُ عَلَيْهِ صَبْرًا حضرت ابراہیم کا قصہ ہے کہ جب لوط کی قوم تباہ ہونے لگی تو انہوں نے کہا کہ اگر سو میں سے ایک ہی نیک ہو تو کیا تباہ کر دے گا ؟ کہا نہیں ! آخر ایک تک بھی نہیں کروں گا (فرمایا ) لیکن جب بالکل حد ہی ہو جاتی ہے تو پھر لا يَخَافُ عُقْبُهَا ( الشمس : ۱۶) خدا کی شان ہوتی ہے۔ پلیدوں کے عذاب پر وہ پروا نہیں کرتا کہ ان کی بیوی بچوں کا کیا حال ہو گا اور صادقوں اور راستبازوں کے لئے كَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا کی رعایت کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ اور خضر کو حکم ہوا تھا کہ ان بچوں کی دیوار بنا دو اس لئے کہ ان کا باپ نیک بخت تھا اور اس کی نیک بختی کی خدا نے ایسی قدر کی کہ پیغمبر راج مزدور ہوئے ۔ غرض ایسا تو رحیم کریم ہے۔ لیکن اگر کوئی شرارت کرے اور زیادتی کرے تو پھر بری طرح پکڑتا ہے۔ وہ ایسا غیور ہے کہ اس کے غضب کو دیکھ کر کلیجہ پھٹتا ہے۔ دیکھو لوط کی بستی کو کیسے تباہ کر ڈالا ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۲ صفحه ۴) جو لوگ لا ابالی زندگی بسر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے بے پروا ہو جاتا ہے۔ دیکھو دنیا میں جو اپنے آقا کو چند روز سلام نہ کرے تو اس کی نظر بگڑ جاتی ہے تو جو خدا سے قطع کرے پھر خدا اس کی پروا کیوں کرے گا۔ اسی پر وہ فرماتا ہے کہ وہ ان کو ہلاک کر کے ان کی اولاد کی بھی پروا نہیں کرتا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو متقی صالح مر جاوے اس کی اولاد کی پروا کرتا ہے جیسا کہ اس آیت سے بھی پتہ لگتا ہے وگان ابُوهُمَا صَالِحًا ۔ اس باپ کی نیکی اور صلاحیت کے لئے خضر اور موسیٰ جیسے اولوالعزم پیغمبر کو مز دور بنادیا کہ وہ ان کی دیوار درست کر دیں۔ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس شخص کا کیا درجہ ہوگا۔ خدا تعالیٰ نے لڑکوں کا ذکر نہیں کیا چونکہ ستار ہے اس لئے پردہ پوشی کے لحاظ سے اور باپ کے محل مدح میں ذکر ہونے کی وجہ سے کوئی ذکر نہیں کیا۔ پہلی کتابوں میں بھی اس قسم کا مضمون آیا ہے کہ سات پشت تک رعایت رکھتا ہوں ۔ حضرت داؤد علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی متقی کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے نہیں دیکھا۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۰ مورخه ۲۴ اگست ۱۹۰۲ صفحه ۷) كَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا یعنی ان کا باپ صالح تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے ان کا خزانہ محفوظ رکھا۔ اس سے -