تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 205

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۵ سورة الكهف ہو گئے کہ جو دوسروں کے لئے ہرگز روا نہیں۔ پھر ما سوا اس کے ذرا انصافاً سوچنا چاہئیے کہ کوئی امر مشہود و موجود کہ جو بپایہ صداقت پہنچ چکا ہو اور تجارب صحیحہ کے رو سے راست راست ثابت ہوتا ہو صرف ظنی خیالات سے متزلزل نہیں ہو سکتا وَالظَّنَّ لا يُغْنِي عَنِ الْحَقِّ شَيْئًا - سو اس عاجز کے الہامات میں کوئی ایسا امر نہیں ہے جو زیر پردہ اور مخفی ہو بلکہ یہ وہ چیز ہے کہ جو صد با امتحانوں کی بوتہ میں داخل ہو کر سلامت نکلی ہے اور خداوند کریم نے بڑے بڑے تنازعات میں فتح نمایاں بخشی ہے۔ تم۔ براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۵۵ ،۶۵۶ حاشیه در حاشیه نمبر ۴) تم سوچو کہ اگر علم لدنی کا سارا مدار ظنیات پر ہے تو پھر اس کا نام علم کیوں کر ہوگا۔ کیا ظنیات بھی کچھ چیز ہیں جن کا نام علم رکھا جائے م علم رکھا جائے ۔ پس اس صورت میں وَ عَلَّمْنَهُ مِنْ لَدُنَا عِلْمًا کے کیا معنے ہوں گے۔ پس جاننا چاہئے کہ خدا کے کلام پر غور صحیح کرنے سے اور صد با تجارب مشہودہ سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ افراد خاصہ امت محمدیہ کو جب وہ متابعت اپنے رسول مقبول میں فنا ہو جائیں اور ظاہراً و باطناً اس کی پیروی اختیار کریں بہ تبعیت اسی رسول کے اس کی برکتوں میں سے عنایت کرتا ہے۔ یہ نہیں کہ صرف زہد خشک تک رکھنا چاہتا ہے۔ اور جب کسی دل پر نبوی برکتوں کا پر توہ پڑے گا تو ضرور ہے کہ اس کو اپنے متبوع کی طرح علم یقینی قطعی حاصل ہو۔ کیونکہ جس چشمہ کا اس کو وارث بنایا گیا ہے وہ شکوک اور شبہات کی کدورت سے بکلی پاک ہے اور منصب وارث الرسول ہونے کا بھی اسی بات کو چاہتا ہے کہ علم باطنی اس کا یقینی اور قطعی ہو۔ کیونکہ اگر اس کے پاس صرف مجموعہ ظنیات کا ہے تو پھر وہ کیوں کر اس ناقص مجموعہ سے کوئی فائدہ خلق اللہ کو پہنچا سکتا ہے۔ تو اس صورت میں وہ آدھا وارث ہوا نہ پورا۔ اور یک چشم ہوا نہ دونوں آنکھوں والا۔ اور جن ضلالتوں کی مدافعت کے لئے خدا نے اس کو قائم کیا ہے۔ ان ضلالتوں کا نہایت پر زور ہونا اور زمانہ کا نہایت فاسد ہونا اور منکروں کا نہایت مکار ہونا اور غافلوں کا نہایت خوابیدہ ہونا اور مخالفوں کا اشد فی الکفر ہونا اس بات کے لئے بہت ہی تقاضا کرتا ہے کہ ایسے شخص کا علم لدنی مشابہ بالرسل ہو۔ اور یہی لوگ ہیں جن کا نام احادیث میں امثل اور قرآن شریف میں صدیق آیا ہے۔ اور ان لوگوں کا زمانہ ظہور پیغمبروں کے زمانہ بعث سے بہت ہی مشابہ ہوتا ہے۔ یعنے جیسے پیغمبر اس وقت آتے رہے ہیں کہ جب دنیا میں سخت درجہ پر گمراہی اور غفلت پھیلتی رہی ہے۔ ایسا ہی یہ لوگ بھی اس وقت آتے ہیں کہ جب ہر طرف گمراہی کا سخت غلبہ ہوتا ہے۔ اور حق سے ہنسی کی جاتی ہے۔ اور باطل کی تعریف ہوتی ہے۔ اور کا ذبوں کو راستباز قرار دیا جاتا