تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 199
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۹ سورة الكهف ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى رَاحِلَتِهِ لَا وِيًّا إِلى زَافِرَتِهِ اور اپنے ان عزیزوں اور اس گروہ کی طرف رخ کر لیا وَحِزْبٍ خُلِقُوا عَلَى شَاكِلَتِهِ، وَكَانُوا لِقُبُولِهِ جو اس کے مادہ کے موافق اور اس کے قبول کرنے کے مُسْتَعِدِينَ ثُمَّ أَشَاعُوا كَيْفَ شَاءُوا مِنْ لئے مستعد تھے۔ پھر انہوں نے جس طرح چاہا کفروں أَنْوَاعِ الْكُفْرِ وَأَصْنَافِ الْوَسْوَاسِ وَكَانُوا کو شائع کیا اور طرح طرح کے وساوس پھیلائے قَوْمًا مُّتَمَوَّلِينَ وَهُذَا هُوَ الَّذِي كُتِبَ فِي کیونکہ وہ ایک مالدار قوم ہے۔ اور یہ وہی پیشگوئی ہے الصُّحُفِ الْأُولَى أَنَّ الشُّعْبَانَ الَّذِي هُوَ جو پہلی کتابوں میں لکھی گئی ہے کہ وہ اثر رہا جو دجال ہے الدَّجَّالُ يَلْبَتُ فِي السِّجْنِ إِلَى أَلْفِ سَنَةٍ ثُمَّ ہزار برس تک قید رہے گا اور پھر ہزار برس کے بعد يَخْرُجُ بِفَوْجٍ مِنَ الشَّيَاطِينِ، فَلْيَتَذَكَّرُ مَنْ شیاطین کی ایک فوج کے ساتھ نکلے گا سو اسی طرح وہ كَانَ مِنَ الْمُتَذَرِينَ كَذلِكَ خَلَصُوا بَعْدَ ہزار برس کے بعد نکلے۔ اور خدا کی حرمت اور اس کے الْأَلْفِ وَتَنَاسَوُا ذِمَامَ اللهِ وَنَكَثُوا عُهُودَةً عہد کو بھلا دیا اور کل عہدوں کو توڑ دیا اور شوخیاں کر کے وَاحْفَظُوا رَبَّهُمْ مُجْتَرِثِينَ وَجَمَعُوا كُلَّ اپنے رب کو غصہ دلایا اور اپنی تمام کوششوں کو لوگوں جُهْدِهِمْ لِإِضْلَالِ النَّاسِ، وَاسْتَجَدُّوا کے گمراہ کرنے میں اکٹھا کر دیا اور تمام تدابیر کو کام میں الْمَكَائِدَ كَالْخَنَّاسِ، وَجَاءُوا بِسِحْرٍ مُّبِينٍ لائے اور تقویٰ اور نیک عمل کو ضائع کیا اور ایسے کفارہ وَأَضَاعُوا التَّقْوَى وَالْعَمَلَ الصَّالِحَ، وَاتَّكَاوُا پر تکیہ کر بیٹھے جس کی کچھ بھی اصل نہیں اور ہر ایک گناہ عَلَى كَفَّارَةٍ لَا أَصْلَ لَهَا، وَاتَّبَعُوا كُلَّ إِثْمٍ کی انہوں نے پیروی کی اور ہر یک عذاب کو شیریں وَاسْتَعْذَبُوا كُلَّ عَذَابٍ، وَكَذَّبُوا سمجھ لیا اور پاک لوگوں کی تکذیب کی اور کوشش کی جو الْمُقَدَّسِينَ وَتَجَنَّوا وَقَالُوا نَحْنُ عِبَادُ ان کے عیب ڈھونڈھیں اور کہا کہ ہم مسیح کے بندے الْمَسِيحِ وَأَحِبَّاؤُهُ، وَهَيْهَاتَ أَنْ تُرَاجِعَ اور اس کے پیارے ہیں مگر یہ کہاں ہوسکتا ہے کہ ایسے الْفَاسِقِينَ مِقَةُ الصَّالِحِينَ وَقَدْ سَمِعْتَ فاسقوں کے ساتھ نیک بختوں کا میل جول ہو ۔ اور تو انفًا أَنَّ الْمَسِيحَ سَمَاهُمْ فَاعِلِي الظُّلْمَ ، ابھی سن چکا ہے کہ مسیح نے ان کا نام ظلم کے مرتکب اور وَسَمِعْتَ أَنَّ الظُّلْمَ وَالرَّجُلَ شَيْءٍ وَاحِدٌ، بدکار رکھا ہے اور تو نے یہ بھی سن لیا ہے کہ ظلم اور وَقَدْ قَالَ اللهُ تَعَالَى أَتَتْ أكْلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمُ دجالیت ایک ہی چیز ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا مِنْهُ شَيْئًا، أَيْ لَمْ تَنْقُصُ، وَإِطْلَاقُ الظُّلْمِ ہے کہ اس باغ نے اپنا پورا پھل دیا اور اس میں سے