تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 185

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۵ سورة بني اسراءيل ہم نہیں مان سکتے کہ کوئی اس جسم کے ساتھ آسمان پر بھی چڑھ سکتا ہے کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار نے کہا کہ تو آسمان پر چڑھ جا آپ نے یہی فرمایا سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا - الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ رنومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۶) خدا تعالیٰ کبھی قیامت کا نظارہ یہاں قائم نہیں کرتا اور وہ غلطی کرتے ہیں جو ایسے نشان دیکھنے چاہتے ہیں یہ محرومی کے لچھن ہوتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا کہ آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور کتاب لے آئیں تو آپ نے یہی جواب دیا هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا - پورے انکشاف کے بعد ایمان لا کر کسی ثواب کی امید رکھنا غلطی ہے۔ اگر کوئی مٹھی کھول دی جاوے اور پھر کوئی بتا دے کہ اس میں فلاں چیز ہے تو اس کی کوئی قدر نہ ہوگی ۔ الحکم جلدے نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷ جولائی ۱۹۰۳ صفحه ۲) ایسے فرضی اوصاف ان (حضرت مسیح علیہ السلام ۔ ناقل ) کے لئے وضع کرتے ہیں جن سے آنحضرت صلعم کی ہتک اور ہجو ہو کیونکہ آنحضرت صلعم سے کفار نے سوال کیا کہ آپ آسمان پر چڑھ کر بتلاویں تو آپ نے یہ معجزہ ان کو نہ دکھلایا اور سُبْحَانَ رَبّی کا جواب دیا گیا ۔ اور یہاں بلا درخواست کسی کافر کے خود خدا تعالیٰ مسیح کو آسمان پر لے گیا تو گویا خدا تعالیٰ نے خود آنحضرت صلعم کو کفار کی نظروں میں ہیٹا کرانا چاہا۔ کیا وہ خدا اور تھا اور یہ اور تھا۔ البدر جلد ۲ نمبر ۳۴ مورخه ۱۱ استمبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۶۷) ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نبی مانتے ہیں اور سب سے اشرف جانتے ہیں اور ہرگز گوارا نہیں کرتے کہ کوئی عمدہ بات کسی اور کی طرف منسوب کی جاوے جب کفار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی معجزہ طلب کیا کہ آسمان پر چڑھ کر دکھاویں تو آپ نے فرمایا سُبحان ربی اور انکار کر دیا۔ دوسری طرف حضرت مسیح کو خدا آسمان پر لے جاوے یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہم قرآن سے کیا بلکہ کل کتابوں سے دکھا سکتے ہیں کہ جس قدر اخلاق اور خوبیاں کل انبیاء میں تھیں وہ سب کی سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع تھیں ۔ كَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا ( النساء : ۱۱۳) ۔ اسی کی طرف اشارہ ہے پس اگر آسمان پر جانا کوئی فضیلت ہو سکتی تھی۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کب باہر رہ سکتے تھے۔ آخر یہ لوگ پچھتاویں گے کہ ان باتوں کو ہم نے کیوں نہ مانا۔ یہ لوگ ایک وار تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر کرتے ہیں کہ ایک معجزہ آسمان پر جانے کا لوگوں نے مانگا مگر خدا نے آپ کی پرواہ نہ کی اور عیسیٰ کو یہ عزت دی کہ اسے آسمان پر اُٹھالیا اور دوسرا حملہ خود خدا پر کرتے ہیں ۔ کہ اس نے اپنی قوت خلق سے مسیح کو بھی کچھ دے دی جس سے تشابہ الخلق