تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 182
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۲ سورة بنى اسراءيل گے وہ نہیں سوچتے کہ اگر تیس دجال آنے والے تھے تو اس حساب کی رو سے ہر ایک دجال کے مقابل پرتیس مسیح بھی تو چاہیے تھے۔ یہ کیا غضب ہے کہ دجال تو تیس آگئے مگر مسیح ایک بھی نہ آیا۔ یہ امت کیسی بد قسمت ہے کہ اس کے حصہ میں دجال ہی رہ گئے اور سچے مسیح کا منہ دیکھنا اب تک نصیب نہ ہوا حالانکہ اسرائیلی سلسلہ میں تو صد ہا نبی آئے تھے ۔ ( حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۱۱، ۲۱۲) يَرْفَعُونَ عِيسَى مَعَ جِسْمِهِ إِلَى السَّمَاءِ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جسم سمیت آسمان پر سو وَلَا يَتَدَبَّرُونَ قَوْلَهُ تَعَالَى: قُلْ سُبْحَانَ چڑھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قول قُلْ سُبْحَانَ رَبِّی پر رَبِّي بَلْ يَزِيدُونَ فِي الْبُغْضِ وَالشَّحْنَاءِ غور نہیں کرتے بلکہ وہ بغض اور کینہ میں بڑھ رہے ہیں ۔ يَا فِتْيَانُ أَيْنَ أَنْتُمْ مِنْ تِلْكَ الْآيَاتِ، وَلِمَ اے نو جوانو ! تم ان آیات پر غور کرو تم کیوں متشابہات کی تَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنَ الْقَوْلِ وَتَتْرُكُونَ پیروی کرتے ہو اور واضح محکمات کو چھوڑتے ہو۔ کیا تم نہیں الْبَيِّنَاتِ الْمُحْكَمَاتِ أَلَا تَعْلَمُونَ أَنَّ جانتے کہ اس آیت میں مذکور ہے کہ کفار نے ہمارے رسول الكُفَّارَ طَلَبُوا فِي هَذِهِ الْآيَةِ مُعْجِزَةً کریم سے جو سب نبیوں سے بہتر اور تمام برگزیدہ لوگوں کے شُعُودِ إِلَى السَّمَاءِ ، مِنْ نَبِيِّنَا خَيْرٍ سردار ہیں آسمان پر چڑھنے کا معجزہ طلب کیا تھا ۔ تب الْأَنْبِيَاءِ وَزُبْدَةِ الْأَصْفِيَاءِ ، فَأَجَاءَهُمُ الله الله تعالیٰ نے انہیں جواب دیا کہ بشر کو جسم سمیت آسمان پر اٹھانا اس کی عادت نہیں ہے بلکہ یہ اس کی سنت اور أَنَّ رَفَعَ بَشَرٍ مَّعَ جِسْمِهِ لَيْسَ مِنْ عَادَتِهِ، بَلْ هُوَ خِلَافُ مَوَاعِيدِهِ وَسُنَّتِهِ وَلَوْ فُرِضَ أَنَّ عِيسَى رُفِعَ مَعَ جِسْمِهِ إِلَى وعدوں کے خلاف طریق ہے اور اگر یہ فرض کیا جائے کہ حضرت عیسی جسم سمیت دوسرے آسمان پر اٹھائے گئے تھے تو اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آسمانوں پر السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ، فَمَا مَعْنَى هَذَا الْمَنْعِ في جانے میں روک کے کیا تھے ہیں کیا عیسی علیہ السلام خدا تعالی هَذِهِ الْآيَةِ أَلَمْ يَكُنْ عِيسَى بَشَرًا عِنْدَ کے نزدیک بشر نہیں تھے۔ علاوہ ازیں کون سی سخت حَضْرَةِ الْعِزَّةِ ثُمَّ أَيُّ حَاجَةٍ اشْتَدَّتْ ضرورت پیش آئی تھی کہ انہیں بلند آسمانوں پر اٹھایا جاتا کیا لِرَفْعِهِ إِلَى السَّمَاوَاتِ الْعُلَى أَأَرْهَقَتُهُ زمین ان کے لئے تنگ ہو گئی تھی یا یہود کے ہاتھوں سے بچ الْأَرْضُ بِضَيْقِهَا، أَوْ مَا بَقِيَ مَفَرٌ مِنْ أَيْدِی کر زمین میں ان کے لئے کوئی مفر نہ رہاتھا۔ پس آپ کو الْيَهُودِ فِيهَا، فَرُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ لِيُخْفى آسمانوں پر اٹھایا گیا تا کہ انہیں چھپایا جائے۔ (الاستفتاء ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۶۹ ، ۶۷۰) ( ترجمه از مرتب )