تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 163
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھ ۱۶۳ سورة بني اسراءيل بھی بالضرور پیچھے پیچھے کھنچی چلی آتی ہے اس لئے انسان کی طبعی حالتوں کی طرف متوجہ ہونا خدا تعالیٰ تعالیٰ کی سچی کتاب کا کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے انسان کی طبعی حالتوں کی اصلاح کے لئے بہت توجہ فرمائی ہے۔ اور انسان کا ہنسنا ، رونا، کھانا، پینا، پہننا، سونا ، بولنا، چپ ہونا، بیوی کرنا، مجر در بنا، چلنا، ٹھہرنا اور ظاہری پاکیزگی غسل وغیرہ کی شرائط بجالانا اور بیماری کی حالت اور صحت کی حالت میں خاص خاص امور کا پابند ہونا ان سب باتوں پر ہدایتیں لکھی ہیں اور انسان کی جسمانی حالتوں کو روحانی حالتوں پر بہت ہی مؤثر قرار دیا ہے۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۲۲ تا ۳۲۶) خدا نے انسان کی جان کو پیدا کر کے اس کا نام روح رکھا۔ کیونکہ اس کی حقیقی راحت اور آرام خدا کے اقرار اور اس کی محبت اور اس کی اطاعت میں ہے۔ (سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۲۹) قرآن شریف یہ نہیں سکھلاتا کہ انسانی ارواح اپنی ذات کے تقاضا سے ابدی ہیں بلکہ وہ یہ سکھلاتا ہے کہ یہ ابدیت انسانی روح کے لئے محض عطیہ الہی ہے ورنہ انسانی روح بھی دوسرے حیوانات کی روحوں کی طرح قابل فنا ہے۔ (نسیم دعوت ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۸۲ حاشیه ) جس حالت میں روحیں قدیم سے خود بخود اور اپنے وجود کی آپ خدا ہیں تو اس صورت میں گویا وہ تمام روحیں کسی علیحدہ محلہ میں مستقل قبضہ کے ساتھ رہتی ہیں اور پرمیشر علیحدہ رہتا ہے کوئی تعلق درمیان نہیں اور اس امر کی وجہ کچھ نہیں بتلا سکتے کہ تمام روحیں اور تمام ذرات با وجود انادی اور قدیم اور خود بخود ہونے کے پرمیشر کے ماتحت کیوں کر ہو گئیں ۔ کیا کسی لڑائی اور جنگ کے بعد یہ صورت ظہور میں آئی یا خود بخود روحوں نے کچھ چشمه سیحی، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۶۷) مصلحت سوچ کر اطاعت قبول کر لی۔ قرآن شریف کہتا ہے کہ روحیں انادی اور غیر مخلوق نہیں اور دو نطفوں کی ایک خاص ترکیب سے وہ پیدا ہوتی ہیں اور یا دوسرے کیڑوں مکوڑوں میں ایک ہی مادہ سے پیدا ہو جاتی ہیں اور یہی سچ ہے کیونکہ مشاہدہ اس پر گواہی دیتا ہے جس کے ماننے کے بغیر چارہ نہیں اور امور محسوسہ مشہودہ سے انکار کرنا سراسر جہالت ہے اور جب ہم کہتے ہیں کہ روح نیست سے ہست ہوتا ہے تو اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اوّل وہ کچھ بھی نہیں تھا بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اس کے لئے کوئی ایسا مادہ نہیں تھا کہ انسان اپنی قوت سے اس میں سے روح نکال سکتا اور اس کی پیدائش صرف اس طور سے ہے کہ محض الہی قوت اور حکمت اور قدرت کسی مادہ میں سے اس کو