تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 160
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١٦٠ سورة بني اسراءيل صورت اور سبیل نہ تھی سو اگر چہ دلائل مخلوقیت ارواح جن کو اللہ جل شانہ نے آپ قرآن شریف میں معقولی طور پر بیان کیا ہے اس کثرت سے ہیں کہ اگر وہ سب اس جگہ لکھے جائیں تو خود انہیں دلائل کی ایک بڑی کتاب ہو جائے گی مگر ہم بالفعل اسی قدر پر کفایت کرتے ہیں۔ سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۶۷ تا ۱۶۹) وَ يَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوح الخ ۔۔۔۔ اور کفار تجھ سے (اے محمد) پوچھتے ہیں کہ روح کیا ہے اور کس چیز سے اور کیوں کر پیدا ا ہوئی ہے۔ ان کو کہہ دے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تم کو اے کا فرو علم روح اور علم اسرار الہی نہیں دیا گیا مگر کچھ تھوڑا سا۔ سو اس جگہ اے ماسٹر صاحب آپ کو اپنے نقصان فہم سے یہ غلطی لگی کہ آپ نے اس عبارت کا مخاطب ( کہ تم کو علم روح نہیں دیا گیا) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھ لیا حالانکہ لفظ ما أُوتِيتُم جس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم کو نہیں دیا گیا جمع کا صیغہ ہے جو صاف دلالت کر رہا ہے جو اس آیت کے مخاطب کفار ہیں کیونکہ ان آیات میں جمع کے صیغہ سے کسی جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب نہیں کیا گیا بلکہ جابجا واحد کے صیغہ سے خطاب کیا گیا ہے اور جمع کے صیغہ سے کفار کی جماعت کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایسا سوال کرتے ہیں سو اگر کوئی نرا اندھا نہ ہو تو سمجھ سکتا ہے کہ ان دونوں آیتوں میں دو جمع کے صیغے وارد ہیں ۔ اول یکون یعنی سوال کرتے ہیں ۔ دوم ما اوتیتم یعنی تم نہیں دیئے گئے اور جیسا کہ ظاہر ہے کہ يسلون کے صیغہ جمع سے مراد کا فر ہیں جنہوں نے روح کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا تھا۔ ایسا ہی ظاہر ہے کہ ما اوتیتم کے صیغہ جمع سے بھی مراد کا فر ہی ہیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو کسی جگہ جمع کے صیغہ سے خطاب نہیں کیا گیا بلکہ اول مجرد کاف سے جو واحد پر دلالت کرتا ہے خطاب کیا گیا یعنی یہ کہا گیا کہ تجھ سے کفار پوچھتے ہیں یہ نہیں کہا گیا کہ تم سے کفار پوچھتے ہیں۔ پھر بعد اس کے ایسا ہی لفظ واحد سے فرمایا کہ ان کو کہہ دے یہ نہیں فرمایا کہ ان کو کہہ دو بر خلاف بیان حال کفار کے کہ ان کو دونوں موقعوں پر جمع کے صیغے سے بیان کیا ہے سو آیت کے سیدھے سیدھے معنے جو سیاق سباق کلام سے سمجھے جاتے ہیں اور صاف صاف عبارت سے نکلتے ہیں یہی ہیں کہ اے محمد کفار تجھ سے روح کی کیفیت پوچھتے ہیں کہ روح کیا چیز ہے اور کس چیز سے پیدا ہوئی ہے سوان کو کہہ دے کہ روح امر ربی ہے یعنی عالم امر میں سے ہے اور تم اے کا فرو کیا جانو کہ روح کیا چیز ہے کیونکہ علم روح حاصل کرنے کے لئے ایماندار اور عارف باللہ ہونا ضروری ہے مگر ان باتوں میں سے تم میں کوئی بھی بات نہیں ۔ ۔۔۔۔ غور کرنا چاہئے کہ ان آیات شریفہ متذکرہ بالا کا کیسا مطلب